30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذلك لاحتمال الرد[1]۔ |
کی جائے گی کیونکہ رد کا احتمال ہے۔(ت) |
کافی میں ہے:
|
فی مذاکرۃ الطلاق یقع الطلاق فی سائر الاقسام قضاء الافیما یصلح جوابا وردافانہ لایجعل طلاقا[2]۔ |
قضاءً مذاکرہ طلاق میں تمام صورتوں میں طلاق واقع ہو جائیگی لیکن جن صورتوں میں جواب اور رد ہونے کا احتمال ہو ان صورتوں میں طلاق نہ ہوگی۔(ت) |
ثانیًا اسے نہ سوجھا کہ لفظ اضافت سے خالی ہے تو بحال انکار نیت حکم طلاق ناممکن ہے اگرچہ خود لفظ"طلاق"ہوتا جیسا کہ مسائل مذکورہ میں گزرا،نہ کہ لفظ"جواب"کہ کنایہ ہے اور وہ بھی محتمل رد وانکار۔محیط میں ہے:
|
لایقع فی جنس الاضافۃ اذالم ینولعدم الاضافۃ الیھا[3]۔ |
یعنی جنس اضافت میں جب طلاق کو عورت کی طرف اضافت نہ کرے طلاق نہ ہوگی جب تك شوہر نیت نہ کرے۔ |
ثالثًا اس نے عورت کو خود اپنے معاملے میں قاضی بتایا اس کا اگریہ مطلب کہ عورت خود حاکم ہے اوراس کا حکم مثل قاضی شرع نافذ وناطق ہے جب تو صریح جہالت ہے،ہاں جہاں کہ مرد خود حَکم بن بیٹھتے ہوں وہاں کی عورتیں اگر خود قاضی بن بیٹھیں تو کیا عجب۔اور اگریہ مراد کہ الفاظ طلاق میں عورت کو وہی سمجھنا چاہئے جو عام لوگوں اور قاضی کو کہ دل کا حال اﷲ جانتا ہے،یہ سب ظاہر پر عمل کرنے والے ہیں تو ہم درمختارو ردالمحتار وفتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی عالمگیری وفتاوٰی خلاصہ وفتاوٰی ذخیرہ وفتاوٰی بزازیہ وفتاوٰی محیط وبحرالرائق وکافی شرح وافی وہدایہ کے نصوص جلیلہ سنا چکے کہ اس صورت میں جبکہ شوہر بحلف منکرنیت ہے قاضی بھی طلاق نہیں ٹھہراسکتا تو عورت کیا چیز ہے۔
رابعًا اس کی جہالت کا صاف واضح نمونہ وہ ہے کہ فضل کریم شہادت پیش کرنے میں قاصر رہا وہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ یہاں فضل کریم مدعا علیہ ہے اور حسینہ مدعیہ ہے مدعا علیہ کو شہادت کی کیا حاجت جس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع