30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نوکر کو جواب دے دیا یعنی برخاست کردیامگر وہ اردوئےمعلّٰی بلکہ فارسی میں بھی بمعنی رد و انکار وعدمِ قبول شائع وذائع ہے گدارا جواب داد(فقیر کو جواب دیا۔ت)یعنی اس کا سوال رد کیا،دینے سے انکار کردیا،زید سے فلاں کام کو کہا اس نے جواب دیا یعنی نہ مانا،قبول نہ کیا،عمرو سے کوئی درخواست کی اس نے کہا میری طرف سے جواب ہے یعنی مجھے منظور نہیں۔مخلص کا شی راست ؎
دریں زمانہ گدارنگ می تواند بست اگر زخواجہ ممسك جواب میگیرد
(اس زمانہ میں گدا گر اپنے ڈنگ کا بختہ ہے اگر چہ بخل والاجواب بھی دے دے۔ت)
فصیح الملك ؎
نامہ برکہتا ہے اب لاتا ہوں دلبر کا جواب سُن چکا میں چاردن پہلے مقدر کا جواب
اس قسم کے محاورات نظم ونثر میں بکثرت ہیں۔
تو کلمہ یقینا صالح رد ہے،اور جو کلمہ صالح رد ہو مطلقا ہر حال میں محتاجِ نیت ہے اگر چہ حالت غضب ہو اگر چہ حالتِ مذاکرہ طلاق ہو۔درمختار میں ہے:
|
الحالات ثلثۃ رضی وغضب ومذاکرۃ والکنایات ثلث مایحتمل الرداومایصلح للسب اولا ولاففی الرضی تتوقف الثلثۃ علی نیۃ للاحتمال وفی الغضب الاولان وفی مذاکرۃ الطلاق الاول فقط[1]۔ |
حالات تین ہیں:رضا،غصہ اور مذاکرہ طلاق،اور کنائے تین ہیں:رد کا احتمال نہ رکھتا ہو،تو رضا کی صورت میں تینوں احتمال ہوسکتے ہیں جس کی نیت کریگا وہی ہوگا،اورغصہ کی صورت میں پہلے دونوں اور مذاکرہ کی صورت میں صرف پہلا احتمال یعنی رد ہوسکتا ہے۔(ت) |
اور جب وُہ حلف کے ساتھ نیت کا انکار کرتا ہے تو یقینا اس کا قول ماناجائے گا۔نہ قاضی حکمِ طلاق دے سکتاہے نہ عورت اپنے آپ کو مطلقہ سمجھ سکتی ہے۔درمختار میں ہے:
|
والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ[2]۔ |
قسم کے ساتھ خاوند کی بات معتبر ہوگی اور بیوی کا گھر میں اس سے قسم لے لینا کافی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع