30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تنحل الیمین اذا وجد الشرط مرّۃ الافی کلما فانہ ینحل بعد الثلاث۔[1] |
ان تمام الفاظ کی شرط جب پائی جائے تو قسم ختم ہوجائے گی ماسوائے لفظ"کلما"کیونکہ اس میں شرط تین طلاقوں کے بعد ختم ہوگی۔(ت) |
مگر اتنا ہوگا کہ عورت پر صرف دو طلاقوں کا مالك رہے گا کہ ایك تو نکاح پیش میں پڑچکی اب اگر کبھی دو طلاقیں دے گا مغلظہ ہوجائے گی۔دوسری صورت یہ ہے کہ کسی ذی علم کے سامنے تذکرہ کہے کہ میں نے یوں حلف کرلیا ہے کہ مجھے نکاح فضولی کی حاجت ہے یا کیا اچھا ہوتا کہ کوئی شخص بے میری تو کیل کے بطور خود میرا نکاح اس سے کردے تا ذی علم مذکور خود یا کسی اور اسے کہہ کر عورت کا نکاح اس سے کردے جب اس شخص کو نکاح کی خبر پہنچے یہ زبان سے کچھ نہ کہے بلکہ کوئی فعل ایسا کرے جس سے اس نکاح موقوف کی اجازت ہوجائے،مثلًا عورت کو مہر بھیج دے یا لوگوں کی مبارکباد قبول کرے کہ اس صورت میں نکاح ہوجائے گا اور طلاق اصلًا واقع نہ ہوگی،
|
فی درالمحتار عن البحر عن البزازیۃ ینبغی ان یجیئ الی عالم ویقول لہ ماحلف واحتیاجہ الی نکاح الفضولی فیزوجہ العالم امرأۃ ویجیزبالفعل فلا یحنث وکذا اذا قال لجماعۃ لی حاجۃ الٰی نکاح الفضولی فزوجہ واحد منھم،اما اذا قال لرجل اعقد لی عقد فضولی یکون توکیلا٢ [2]اھ |
ردالمحتار میں بحر سے منقول اور وہاں بزازیہ سے منقول ہے کہ مناسب ہے کہ کسی عالم کے پاس آکر جو اس نے قسم اٹھائی ہے اس کو بیان کرے اور کسی ایسے فضولی شخص(جو اس کی بیوی کو پہچانتا ہو)کی ضرورت کو بیان کرے تو وہ عالم اس کا کسی عورت سے نکاح کردے اور یہ اس عالم کی کارروائی کو کسی اپنے عمل سے جائز کردے تو حانث نہ ہوگا اور یونہی کسی ایسی جماعت کے سامنے اپنے لئے فضولی کے نکاح کی ضرورت کو پیش کرے تو اس جماعت میں کوئی شخص خود اس کا نکاح کردے البتہ خاص کسی شخص کو فضولی بننے کےلئے نہ کہے کیونکہ کسی کو کہنا کہ تو فضولی بن میرا نکاح کردے،تو یہ فضولی نہ ہوگا،بلکہ یہ تو اس کو وکیل بنانا ہوا،اھ(ت) |
مسئلہ٧: از سیتاپور ٦رمضان المبارك ١٣١٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ زن وشو میں باہم نزاع لفظی واقع ہوا اس پر شوہر نے کہا تو میری چیز کھائے تو طلاق ہے،شوہر کی مراد اس سے نقصان نکاح کی ہر گز ہرگز نہیں ہے غصہ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع