30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں کہ قبل نکاحِ ہندہ یہ لفظ کہا اور اس میں نکاحِ ہندہ کی طرف وہ اضافت بھی نہیں جو یہاں کام دے یعنی صریح الفاظِ شرط کہ زنِ معینہ میں اسی کی حاجت ہے معنی شرط کافی نہیں،
|
کما فی الفتح وغیرہ قال فی الدر یکفی معنی الشرط الّا فی المعینۃ باسم او نسب او اشارۃ الخ١[1]۔ |
جس طرح فتح وغیرہ میں ہے،در میں کہا کہ شرط کا معنی کافی ہے ماسوائے نام یا نسب یا اشارہ کے ساتھ معین کردہ عورت کے۔(ت) |
غرضیکہ صرف نکاح ثانیہ کی طرف اضافت اورصحت تعلیق کئے سے وجود ملك یا اضافت بملك لازم تو ہندہ اس تعلیق کی اصلًا محل نہیں،لاجرم زوجہ ثانیہ متعین ہوگئی،بالجملہ ہندہ اس تعلیق میں اجنبیہ محض ہے بخلاف ثانیہ،تو اجنبیہ کی طرف پھیرنے کی کوئی راہ نہیں،
|
لما فیہ من اھمال الکلام ھو محترز عنہ مھما امکن اعمالہ۔ |
کیونکہ اس میں کلام کو مہمل بنانا لازم آتاہے جبکہ اس سے حتی الامکان بچنا ہوتا ہے(ت) |
یہ تو ایسا ہو اجیسے اپنی عورت اور ایك اجنبیہ کو ملاکر کہا میں نے تم دونوں میں سے ایك کو طلاق دی خواہی نخواہی اس کی عورت ہی پرطلاق پڑے گی اجنبیہ کی طرف پھیرنے کا اختیار نہ دیا جائے گا کہ اسے طلاق دینا اس کے قابو میں نہ تھا،
|
فی الھندیۃ لوضم الٰی امرأتہ امرأۃ اجنبیۃ وقال احدٰکما طالق او قال ھذہ طالق او ھذہ لاتطلق امرأتہ الا بالنیۃ لان الاجنبیۃ محل لذٰلك خبراو ان لم تکن محلا لہ انشاء وھذہ الصیغۃ بحقیقتھا اخبار ولو قال فی ھذہ الصورۃ طلقت احدٰکما طلقت امرأتہ من غیرنیۃ ذکرہ فی طلاق الاصل [2]اھ |
ہندیہ میں ہے:اگر خاوند نے اپنی بیوی کے ساتھ اجنبی عورت کو ملا کر کہا تم دونوں میں سے ایك کو طلاق،یایوں کہا اس کو یا اس کو طلاق ہے،تو اس کی بیوی کو بغیر نیت کئے طلاق نہ ہوگی،کیونکہ اجنبی عورت اگرچہ انشاءِ طلاق کے محل نہیں لیکن طلاق کی خبر وحکایت کا محل ہے جبکہ خاوند کا کلام حقیقۃ خبر ہے،ہاں اگر یوں کہے میں نے تم دونوں میں سے ایك کو طلاق دی،تو بیوی کو نیت کے بغیر طلاق ہوجائے گی،اس کو مبسوط کے طلاق میں ذکر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع