30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے بعد خاوندنے بیوی کو بغیر تعلیق تین طلاقیں دے دیں اور کہا تجھے تین طلاق۔اس کے بعد مطلقہ نے حلالہ شرعیہ کے بعد دوبارہ پہلے سے نکاح کیا اور اب گھر میں داخل ہوئی تو کوئی طلاق نہ ہوگی۔(ت)
اوراگر زید نے یہ شرط نفسِ ایجاب وقبول میں کی تو اس کی دو٢ صورتیں ہیں:١اگر پہلے زید نے کہا کہ میں تجھے اپنے نکاح میں لایا اس شرط کہ اگر تیری بے اجازت کے نکاح ثانی کروں تو تجھ پر تین طلاق،ہندہ نے کہا میں نے قبول کیا،تو اس کاحکم مثل صورت اولی ہے یعنی شرط محض باطل وبے اثر ہے کہ جب تك ہندہ نے قبول نہ کیا تھا وُہ اس کی زوجہ نہ ہوئی تھی تو اس کی تعلیق پر بے حصول ملك یا اضافہ بہ ملك اسے کچھ اختیار نہ تھا۔٢اور اگر پہلے ہندہ نے کہا کہ میں نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا،زید نے کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ اگر بے تیری اجازت الیٰ اٰخرہ تو شرط صحیح ہوگئی،اور وقوعِ طلاق کے وہی احکام ہوں گے جو اوپر گزرے کہ جب کلام اول جانب ہندہ سے تھا تو یہ تعلیق بعد تحقق ایجاب وقبول وثبوتِ زوجیت متحقق ہوئی اور اس وقت اسے اختیار کامل تھا،خانیہ وبزازیہ وعمادیہ وبحر ونہر وغیرہا میں ہے:
|
واللفظ للامام الاجل فقیہ النفس رجل تزوج امرأۃ علی انھا طالق او علی ان امرھا فی الطلاق بیدھا ذکر محمد رحمہ اﷲتعالٰی فی الجامع انہ یجوز النکاح والطلاق باطل ولایکون الامر بیدھا،قال الفقیہ ابو اللیث رحمہ اﷲتعالٰی ھذااذا ابدأ الزوج فقال تزوجتك علی انك طالق وان ابتدأت المرأۃ فقالت زوجت نفسی منك علی انی طالق فقال قبلت جاز النکاح ویقع الطلاق لان البدایۃ اذا کانت من الزوج کان الطلاق والتفویض قبل النکاح فلایصح |
الفاظ امام فقیہ النفس کے ہیں کہ ایك شخص نے ایك عورت کو کہا میں تجھ سے اس شرط پر نکاح کرتا ہوں کہ"تو طلاق والی ہے،یا اس شرط پر کہ طلاق کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے"۔اس کے متعلق امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے جامع میں ذکر فرمایا کہ یہ نکاح صحیح ہے اور طلاق کی شرط باطل ہے اور بیوی کو طلاق کا اختیار بھی نہ ہوگا۔اس پر فقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ اگر خاوند نے ابتداء کرتے ہوئے کہا"میں تجھ سے اس شرط پر نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق ہے"تو پھر مذکور حکم یعنی نکاح صحیح اور طلاق باطل ہے،اوراگر عورت ابتداء کرتے ہوئے کہے میں نے اپنے آپ کو تجھ سے نکاح دیا اس شرط پر کہ مجھے طلاق ہو تو خاوند نے جواب میں کہا میں نے قبول کیا،تو نکاح صحیح ہوکر طلاق ہوجائے گی کیونکہ خاوند کی طرف سے ابتداء کرنے میں طلاق اور تفویض،نکاح سے قبل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع