30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عورت سے نکاح کرے گا تو نکاح کرتے ہی فورًا وہ زوجہ ثانی تین طلاقوں سے مطلقہ ہوجائے گی مگر اس کا اثر ایك باہر کر ختم ہوجائے گا یعنی اس کے بعد اگر پھر اور نکاح بے اذن ہندہ کرے گا اگر چہ بعد حلالہ اسی زوجہ ثانیہ سے،تو اب طلاق نہ ہوگی کہ تعلیق میں تعمیم نہ تھی کہ جتنے نکاح بے اذن کرے سب میں طلاق پڑے، لہذاصرف ایك بار پر انتہا ہو کر آئندہ کچھ اثر نہ ڈالے گی،
|
فی التنویر ینحل الیمین اذاوجد الشرط مرۃ الافی کلما[1]۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
تنویر میں ہے کہ قسم ایك دفعہ شرط کے پائے جانے سے ختم ہوجاتی ہے الایۃکہ اس نے قسم میں"کلما"(جب بھی) کا لفظ استعمال کیا ہوتو قسم ختم نہ ہوگی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
جواب سوال دوم : اگر یہ شرط ایجاب وقبول سے پہلے کی اگرچہ اس کے متصل بلافصل ہی ایجاب وقبول واقع ہوئے جب تو محض باطل وبے اثر ہے لعدم الملك والاضافۃ جمیعا(ملکیت اور اس کی طرف اضافت بھی نہ ہونے کی وجہ سے۔ت) پس اگر سو نکاح بے اجازت ہندہ کرےگا ہندہ پر طلاق نہ ہوگی اور اگر بعد ایجاب وقبول کی اگرچہ فورًا بلاتاخیر تو یقینًا صحیح ہوگئی لوقوعہ فی الملک(ملکیت میں وقوع کی وجہ سے۔ت)اب جب تك ہندہ اس کے نکاح یا عدت طلاق غیر مغلظ میں بے اجازت ہندہ نکاح ثانی کرے گا ہندہ پر تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
|
فی الدرالمختار الصریح یلحق الصریح والبائن بشرط العدۃ ،الصریح مالایحتاج الٰی نیۃ، بائناکان الواقع بہ اورجعیا فتح فمنہ الطلاق الثلاث فیلحقھما [2]اھ ملخصًا۔ |
درمختار میں ہے: صریح طلاق، صریح اور بائنہ کو لاحق ہوسکتی ہے بشرطیکہ وہ پہلی بائن کی عدت میں واقع ہو۔ صریح وہ ہوتی ہے جس میں نیت کی ضرورت نہ ہو خواہ اس سے رجعی طلاق پڑے یابائنہ پڑے، فتح، تو اسی قبیل سے مغلظہ طلاق ہے تو یہ رجعی اور بائنہ دونوں کو لاحق ہوسکتی ہے،اھ، ملخصًا(ت) |
ہاں اگر اس نکاح ثانی سے پہلے ہندہ کو طلاقیں ایك یا دو٢دیں اور عدت گزرگئی اور اسی حالت میں کہ وہ اس کے نکاح سے باہر ہے بے اس کی اجازت کے نکاح ثانی کیا تو ہندہ پر طلاق نہ ہوگی کہ اس حالت میں وہ طلاق کی محل ہی نہیں اور اس نکاح ثانی سے وہ تعلیق ختم ہوجائے گی یہاں تك کہ اب اگر ہندہ سے پھر نکاح کرے اور اس کے بعد کتنے ہی نکاح بے اجازت ہندہ کرے تو ہندہ پر طلاق نہ ہوگی، یونہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع