30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فحال الزوجیۃ وعدمھا سواء بخلاف الرجل فانھا تحتاج شرعا الٰی اذنہ فی خروجھا وغیرہ من امور کثیرۃ مادامت الوصلۃ باقیۃ فاذن الرجل فی مثل قولہ لاتخرج الاباذنی ینصرف الٰی ذٰلك المعہود والثابت بالشرح اماھی فلم تحتج الی اذنھا الا بالتعلیق ولم یفصل فیہ فلینتظم اذنھا مادامت حیۃ وان زال النکاح۔ |
زوجیت اور عدمِ زوجیت دونوں حال برابر ہیں، اس کے برخلاف بیوی کے لئے خاوند کا حکم الزم ہے کیونکہ بیوی باہر نکلنے اور دیگر امور میں خاوند کی اجازت کی شرعًا محتاج ہے جب تك زوجیت باقی ہے تو خاوند کا بیوی کو یہ کہنا کہ تو میری اجازت کے بغیر باہر نہ نکل اسی عرف اور شرعی ضابطہ کی طرف سے پابندی ہے، لیکن خاوندتعلیق کے ماسوا بیوی کی کسی اجازت کا محتاج نہیں ہے اور یہاں خاوند نے کوئی تفصیل بیان نہیں کی، لہذا بیوی سے نکاح ختم ہوجانے کے بعد بھی خاوند بیوی کی زندگی بھر میں اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کرے گا تو دوسری کو طلاق ہوجائیگی۔(ت) |
ردالمحتار باب الیمین فی الضرب واقتل میں ہے:
|
لو قال لامرأتہ کل امرأۃ اتزوجھا بغیر اذنك فطالق فطلق امرأتہ طلاقا بائنا او ثلثا ثم تزوج بغیر اذنھا، طلقت لانہ لم یتقید یمینہ ببقاء النکاح لانھا انما تتقید والمنع بعقد النکاح اھ فتح ای بخلاف الزوج فانہ یستفید ولایۃ الاذن بالعقد وکذارب الدین کما فی الذخیرۃ[1]۔ |
اگر خاوند نے بیوی کو کہا میں جس عورت سے بھی تیری اجازت کے بغیر نکاح کروں تو اس کو طلاق ہوگی، اب خاوند نے بیوی کو طلاق بائنہ یا تین طلاقیں دے دیں اس کے بعد اس نے کسی عورت سے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو طلاق واقع ہو جائیگی کیونکہ اس نے قسم میں اجازت کو بیوی کے نکاح سے مقید نہ کیا تھا، اور یہ اجازت نکاح کے ساتھ مقید تب ہوتی جب عورت اپنے نکاح کی وجہ سے اذن یا منع کی ولایت حاصل کرتی اھ، فتح میں ہے، یعنی اس کے برخلاف خاوند کو نکاح کی وجہ سے ولایت اذن خودبخود حاصل ہوجاتی ہے، اور ایسے قرض دینے والے کو خود بخود قرض لینے والے پر ولایت حاصل ہوجاتی (کہ جب چاہے مطالبہ کرے) جیسا کہ ذخیرہ میں ہے۔(ت) |
پس حاصل حکم یہ کہ اگر بعد نکاح ہندہ بحالت حیات ہندہ طلاق ہندہ بے اذن ہندہ کسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع