30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
الاضافۃ الیہ بان یکون معلقا بلاملك کما مثل وکقولہ ان صرت زوجۃ لی او بسبب الملك کالنکاح ای التزوج وکالشراء اھ[1]۔ |
ملکیت کی طرف اضافت جیسے ملکیت کے ساتھ معلق کرنا جیسا کہ مثال بیان ہوئی اور یہ کہ اگر تو میری بیوی ہوجائے یا ملکیت کے سبب کی طرف اضافت ہو یعنی نکاح کی طرف نسبت ہو، مثلًا یوں کہے"جب میں نکاح کروں،یا خریدوں"اھ(ت) |
مگر قبل نکاح ہندہ اس کےلئے کچھ اثر نہیں کہ شرط وُہ نکاح ہے جو نکاح ہندہ سے ثانی ہو پس اگر پیش از نکاح ہندہ کسی عورت سے بے اجازت ہندہ نکاح کرے گا اسے طلاق نہ ہوگی نہ بعد موت ہندہ اس کا اثرباقی رہے گا کہ شرط اذن ہندہ ہے اور میت صالح اذن نہیں تو بعد موت ہندہ جس سے نکاح کرےگا اس پر بھی طلاق نہ ہوگی اب وہ تعلیق ہی نہ رہی،
|
فان امکان البر شرط بقاء الیمین ایضا عند الطرفین کما ھو شرط انعقادھا عندھما رضی اﷲتعالٰی عنہما۔ |
کیونکہ قسم کے پورا ہونے کا امکان قسم کے باقی رہنے کیلئے بھی امام اعظم اور امام محمد رضی اﷲعنہما کے نزدیك اسطرح شرط ہے جس طرح کہ ان کے ہاں یہ امکان قسم کے تحقق کےلئے شرط ہے(ت) |
فتح القدیر میں ہے:
|
اذا حلف لایعطیہ حتی یا ذن فلان فمات فلان ثم اعطاہ لم یحنث اھ١ [2]مثلہ فی ردالمحتار عن البحر۔ |
جب کسی نے یہ قسم اُٹھائی کہ میں فلاں کو یہ چیز نہ دوں گاجب تك دوسرافلاں اجازت نہ دے،ا ور دوسرے فلاں کے فوت ہوجانے کے بعد دے تو قسم نہ ٹوٹے گی اھ اسی کی مثل رد المحتار میں بحر سے منقول ہے(ت) |
ہاں بقاء میں نکاح ہندہ کچھ شرط نہیں یہاں تك کہ اگر ہندہ اس کے نکاح سے خارج ہوجائے اگرچہ طلاق مغلظہ سے، تاہم جب تك وُہ زندہ ہے اگر بے اس کے اذن کے نکاح ثانی کرے گا زوجہ ثانیہ پر تین طلاقیں پڑجائیں گی،
|
فان المرأۃ لاحکم لھا علی بعل |
عورت کا کوئی حکم خاوند پر لازم نہیں،خاوند کے لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع