30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وھٰذا بالاتفاق۔[1] |
یہ ضابطہ متفق علیہ ہے۔(ت) |
بلکہ وہ آیہ کریمہ الطلاق مرتٰن وغیرہ سے ثابت ہے،
|
فان الاٰیات ذکرت الطلاق بالاطلاق فشمل المنجز المعلق۔ |
کیونکہ آیات میں مطلق طلاق کا ذکر ہے جو مشروط اور غیر مشروط دونوں طلاق کو شامل ہے۔(ت) |
اسے سوگند یمین کہنا ایك اصطلاح علمی ہے جس کا پتا آیہ کریمہ یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللہُ لَکَ ۚ قَدْ فَرَضَ اللہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیۡمٰنِکُمْۚ[2] (اے نبی صلی اﷲتعالٰی علیك وسلم! اﷲتعالٰی نے آپ کے لئے جو حلال فرمایا اسے آپ کیونکہ حرام فرماتے ہیں تا اﷲتعالٰی کے ارشاد: بیشك اﷲتعالٰی نے تمہارے لئے قسموں کو حلال فرمانا فرض فرمایا ہے۔ت) سے مستفاد ہوتا ہے کہ یہاں بھی تحریمِ حلال ہے اور آیت میں تحریمِ حلال ہی کو یمین فرمایا:
|
علٰی کما بینہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح قبیل باب الیمین فی الدخول والسکنی اقول وللعبد الضعیف ھھنا کلام ذکرتہ علی ھامشہ۔ |
جیسا کہ محقق ابن ہمام نے فتح القدیر میں دخول وسکنی کے باب سے تھوڑا پہلے بیان فرمایا، اقول (میں کہتاہوں) یہاں اس عبد ضعیف کو اعتراض ہے جس کومیں نے اس کے حاشیے پر ذکر کیا ہے۔(ت) |
بلکہ تعلیق طلاق پر حلف کا اطلاق حدیث میں بھی وارد ہے، ابن عساکر حضرت انس بن مالك رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی،
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ماحلف بالطلاق مومن ولااستحلف بہ الامنافق۔[3] |
مومن طلاق کی قسم نہیں کھاتا اور طلاق کی قسم نہیں لیتا مگر منافق۔(ت) |
مگر اس سوگند میں کفار ہ نہیں اﷲعزّوجل کی قسم میں ہے نہ بمجرد سوگند طلاق واقع ہوگی بلکہ بعد وقوعِ شرط واقع ہوگی۔ نکاح قائم رہنے کی صورت یہ ہے کہ شرط واقع نہ ہویا اگر ایك یا دو٢ طلاق رجعی کی سوگند ہے تو بعد وقوع شرط رجعت کرلے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع