30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
طلاق کی مدعیہ عورت کی قسم بامعتبر ہے۔ |
٣٧٣ |
قرأءۃ |
|
|
مدعی کا حلف نہیں سناجاتا بلکہ اس سے گواہ مانگے جاتے ہیں۔ |
٣٧٣ |
قرآن مجید کی دسوں قرأتیں حق اور منزّل من اﷲہیں اور دسوں طرح اکرم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے پڑھا ہے۔ |
٣١٥ |
|
مدعی گوا ہ نہ دے سکے تو مدعا علیہ پرحلف رکھا جاتا ہے۔ |
٣٧٣ |
جہاں جو قراء ۃ رائج ہو نماز اور غیر نماز میں عوام کے سامنے وہی پڑھی جائے، جس قرأۃ سے ان کے کان آشنانہ ہوں وُہ نہ پڑھی جائے مباد وُہ اس پر ہنسنے اور طعن کرنے سے اپنادیں خراب کرلیں۔ |
٣١٥ |
|
گواہوں کو طلاق کی تعداد یاد نہ ہو اور شوہر ایك کی قسم کھالے تو اس کی قسم کا اعتبار ہے۔ |
٤٢٩ |
فرائض |
|
|
مر دطلاق نہ دینے کی قسم کھائے اور عورت طلاق دینے کی، اعتبار شوہر کی قسم کاہوگا، لیکن عورت جس طرح ممکن ہو چھٹکارا حاصل کرے۔ |
٤٤٣ |
اولاد ثابت النسب باپ کا ترك پائے گی اگرچہ حرامی ہو۔ |
١٨٤ |
|
گواہ شرعی موجودنہ ہوں تو قسم لینے کےلئے عورت کا شوہر منکرِ طلاق سے گھر میں قسم لے لیناکافی ہے۔ |
٤٤٤ |
نکاحِ فاسد وباطل میں زوجین ایك دوسرے کے وارث نہیں۔ |
١٨٤ |
|
شوہرقسم کھاکر عدم نیت طلاق کاقول کرے تومان لیاجائے گا اور قسم لینے کے لئے قاضی یاپنچ کی ضرورت نہیں، خود عورت بھی شوہر سے یہ قسم لے سکتی ہے۔ |
٥٧٣ |
یہ رواج کہ بہن کو ترکہ نہیں دیتے باطل ومردود ہے۔ |
١٩٣ |
|
اگر کوئی یُوں کہے کہ"اگر میں یہ کام کروں تو میں زانی، چوریاشرابی ہوں"تو حالف نہیں ہوگا۔ |
٥٩٣ |
تجہیز میں جمع وموائد داخل نہیں تو تجہیز کے علاوہ خرچ کرے گا اگر وارث ہوگا تو اسی کے حصہ پر پڑے گا اور وُہ متبرع ٹھہرے گا یُوں ہی اجنبی۔ |
٢١٦ |
|
یمین غموس پر کفارہ لازم نہیں ہوتا۔ |
٦٠٤ |
متوفی کی بیوی مستحق وراثت ہوتی ہے۔ |
٤٧٠ |
|
عدم نیت کے بارے میں شوہر بیوی کے سامنے قسم کھالے مان لے گی۔ |
٦٠٦ |
زوجہ متوفی کا مستحقِ میراث ہونا نصِ قرآنی سے ثابت ہے۔ |
٤٧١ |
|
کنایہ میں شوہر نیت کے بارے میں حلف سے انکاری ہوتو حاکمِ شرعی بھی قسم کھانے سے انکار کرے تو طلاق ثابت ہو جائے گی۔ |
٦٢٦ |
متوفی کی اولاد نہ ہوتو اس کی بیوی کو چوتھا اور اولاد ہوتو آٹھواں حصہ بطور میراث ملتا ہے۔ |
٤٧١ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع