30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقت عشاء میں قول صاحبین کو درر میں مفتٰی بہ کہا اس پر اعتماد جائزنہیں کہ قول امام سے عدول کا کوئی سبب نہیں۔ |
١١٨ |
قاعدہ یہ ہے کہ عمل اس قول پر ہوگا جس پر جزم و اعتماد کرنے والے کثیر ہوں۔ |
٤٩١ |
|
فتوٰی جب مختلف ہو توظاہر الروایۃ کی طرف رجوع واجب ہے۔ |
٢٠٩ |
امام قاضی خاں کی ترجیح اوروں کی ترجیح پر مقدم ہے۔ |
٤٩١ |
|
مفتی دیانت پر فتوٰی دیتا ہے۔ |
٢١٤ |
جو متون و شروح میں ہے وہ اس پر مقدم ہے جو فتاوٰی میں ہے۔ |
٤٩١ |
|
جو اہلِ زمانہ کو نہ جانے اور فتوٰی دیتے وقت اپنے علاقے کے حال کو ملحوظ نہ رکھے وُہ جاہل ہے۔ |
٢١٤ |
مبنائے باطل پر اقرارِ طلاق محض لغو ہے۔ |
٥٨٦ |
|
جاہلوں سے فتوٰی لینا حرام اور مخالفانِ دین کی طرف رجوع کر سخت اشد حرام ہے۔ |
٤٢٦ |
چودہ برس کی لڑکی میں بلوغ وعدمِ بلوغ دونوں محتمل ہیں۔ |
٦٠٩ |
|
قول مرجوح فتوٰی اورحکم جہل و خرقِ اجماع ہے۔ |
٤٨٢ |
مفتی کا خود شقوق قائم کرکے ہر شق کا جواب دینا خلافِ مصلحتِ شرعیہ ہے۔ |
٦٠٩ |
|
مقلد کس صورت میں قولِ مرجوح یا دوسرے امام کے مذہب پر عمل کرسکتا ہے۔ |
٤٨٢ |
فوائد اصولیہ |
|
|
مفتی کا قول مرجوح پر فتوٰی باطل ہے نیز کسی دوسرے امام کے مذہب کے مطابق بھی فتوٰی نہیں دے سکتا۔ |
٤٨٢ |
اقتصار وتعلیل دونوں دلیل اختیار وتعویل ہیں۔ |
١٠٥ |
|
امام قاضی خاں اسی قول کو مقدم رکھتے ہیں جو راجح ومعتمد ہو۔ |
۴۸۸ |
تعلیل دلیل ترجیح ہوتی ہے۔ |
١٠٦ |
|
علامہ ابراہیم حلبہ اسی قول کو تقدیم دیتے ہیں۔ جو مؤید ہو۔ |
٤٨٩ |
جواب سوال دوم ۔ |
١١٠ |
|
امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کے ارشاد کے بعد امام ابویوسف کا قول مرجح ومقدم ہے۔ |
٤٩٠ |
مجتہد کے سوا کسی کو قوّتِ دلیل پر نظر کا اختیار نہیں۔ |
١١١ |
|
متون کی جلالتِ شان کوکوئی کتاب نہیں پہنچ سکتی۔ |
٤٩٠ |
مشقّت جالب تیسیر ہے۔ |
١١١ |
|
علماء کی تصریح کے مطابق شروح فتاوٰی پر مقدم ہیں۔ |
٤٩٠ |
بغیر ضعف دلیل یا ضرورت یا تعامل یا اختلافِ زماں قولِ امام پر قولِ صاحبین مرجّح نہیں ہوسکتا۔ |
١١٨ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع