30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
افتاء ورسم المفتی |
|
متون وفتاوٰی باہم متعارض ہوں تومعتمد وہی ہوگا جو متون کے موافق ہوگا۔ |
١١٣ |
|
متون خاص نقلِ مذہب صحیح ومعتمد کیلئے وضح کئے جاتے ہیں ۔ |
١٠٥ |
صاحبِ ھدایہ اصحابِ ترجیح میں سے ہیں۔ |
١١٤ |
|
ملتقی الابحر متون معتمدہ فی المذہب سے ہے۔ |
١٠٦ |
امام کمال الدین ابن الہمام صاحب فتح القدیر لائق اجتہاد اور اصحاب ترجیح سے ہیں۔ |
١١٤ |
|
ملتقی الابحر میں جو قول مقدم ہو وہی ارجح ومختار للفتوٰی ہوتا ہے۔ |
١٠٦ |
امام قاضی خاں اصحابِ ترجیح سے ہیں اُن کی تصحیح او روں کی تصحیح پرمقدم ہے ان کی تصحیح سے عدول نہ کیا جائے۔ |
١١٤ |
|
فقیہ النفس امام قاضی خاں اسی قول کو مقدم کرتے ہیں جو اشہر واظہر اور معتمد ہوتا ہے۔ |
١٠٦ |
علماء نے شر وح وفتاوٰی کی بعض صریح تصحیحیں صرف اس بناء پر رَد کردیں کہ متون ان کے خلاف پر ہیں۔ |
١١٥ |
|
صاحب ہدایہ اکثر قولِ قوی کو مقدم کرتے ہیں اور قول مختار کی دلیل کو مؤخر کرنا ان کی عادت مستمرہ ہے |
١٠٧ |
جس پر متون ہوں وہی قول معتمد ہوگا۔ |
١١٥ |
|
علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مفتی مطلقًا قولِ امام پر فتوٰی دے اور قاضی عمومًا مذہبِ امام پر فیصلہ کرے مگر بضرورت داعیہ ترک۔ |
١٠٩ |
صاحب محیط ائمہ ترجیح سے ہیں۔ |
١١٥ |
|
امام اعظم کے بعد امام ابو یوسف پھر امام محمد پھر امام زفر وحسن بن زیاد کے قول کی طرف رجوع کرنا چاہئے |
١٠٩ |
بعض جگہ قولِ صاحبین پر فتوٰی کی وجوہ۔ |
١١٦ |
|
ہم پر امام کے قول پر فتوٰی دینا واجب ہے اگرچہ مشائخ اس کے خلاف فتوٰی دیں۔ |
١١٠ |
ایك تہائی مذہب کے قریب قولِ صاحبین قولِ امام کے خلاف ہے لیکن اکثر اعتماد قولِ امام پر ہی ہے۔ |
١١٦ |
|
مسائل وقف وقضاء میں غالبًا امام ثانی کے قول پر فتوٰی ہے۔ |
١١١ |
علماء نے اس کی تصحیح فرمائی کہ ہم پر بقولِ امام فتوٰی دینا لازم اگرچہ مشائخ نے اس کے خلاف پر فتوٰی دیا ہو۔ |
١١٧ |
|
لاکھوں مسائلِ معاملات میں قولِ امام پر فتوٰی ہے اگرچہ امام ابویوسف کی رائے سے امام محمد بھی موافق ہوں۔ |
١١١ |
قولِ امام سے قولِ صاحبین کی طرف یا ان میں سے کسی ایك کی طرف بلاضرورت عدول نہ کیا جائے۔ |
١١٨ |
|
متون شروح پر اور شروح فتاوٰی پر مقدم ہیں۔ |
١١٣ |
صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں قولِ امام پر فتوٰی بہر حال میرے نزدیك واجب ہے۔ |
١١٨ |
|
متن وشرح میں تعارض ہوتو عمل متن پر ہوگا۔ |
١١٣ |
|
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع