30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مذہب حنفی میں عیب احدالزوجین سے دوسرے کو فسخ نکاح کا اختیار نہیں، امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیك اختیار ہے مگر یہ خلافِ مذہب ہے، بایں ہمہ ضرورت واقعیہ ہو تو امام محمد کے قول پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ |
٥٠٣ |
نکاح فاسد کی معتدہ اور معتدۃ الموت کا نفقہ واجب نہیں ہوتا اگرچہ حاملہ ہو۔ |
٤٧٢ |
|
عیب احدالزوجین سے حصوں خیار کی صورت میں مسئلہ امام محمد کی تفصیل۔ |
٥٠٤ |
ناشزہ کے لئے نفقہ نہیں۔ |
٤٧٣ |
|
نفقہ |
|
نفقہ اگر مفروضہ بحکمِ حاکم ہوتو موت احدالزوجین سے ساقط ہوجاتا ہے مگر جبکہ نفقہ مفروضہ شوہر سے نہ ملا ہو اور بحکم قاضیِ شرع عورت نے قرض لے لے کر خرچ کیا ہوکہ اس صورت میں ذمہ شوہر پر دین قرار پاکر موت سے ساقط نہیں ہوتا۔ |
٤٧٣ |
|
برائے وصولی مہر معجل وطی وسفر سے انکار کرنیوالی عورت کا نفقہ ساقط نہ ہوگا۔ |
١٠٣ |
بیمار شوہر پر بھی عورت کا نان ونفقہ واجب ہے جبکہ وُہ عورت اس کی قید میں رہے۔ |
۴۷۳ |
|
ناشزہ عورت کے لئے نفقہ شوہر پرواجب نہیں۔ |
١٤٤ |
آوارہ گرد عورت کا نفقہ شوہر کے ذمے لازم نہیں۔ |
٤٧٥ |
|
گھر مین پہننے کے کپڑے جن کا دینار بحکم نفقہ شوہر پرواجب ہوچکا تھا وُہ دے کر دعوٰی کرے کہ میں نے عورت کو مالك نہیں بنایا تھا تو اس میں شوہر کا قول معتبر نہ ہونا چاہئے۔ |
١٦٠ |
عورت کی طرف سے کوئی بات مسقط نان ونفقہ نہیں ہوئی شوہر پھر بھی نفقہ نہ دے تو حاکم شوہرکو مجبور کرے کہ وُہ نفقہ دے ورنہ طلاق دے۔ |
٤٧٥ |
|
جب تك شوہر مہرِمعجل ادا نہ کرے نان نفقہ پاسکتی ہے یانہیں۔ |
١٨٩ |
شوہر کے ظلم وتعدّی کی وجہ سے عورت مجبورًا والدین کے پاس رہے تو نفقہ شوہر پر لازم ہے۔ |
٤٧٨ |
|
نفقہ مثل کے معنی۔ |
٢١٤ |
حنفیہ کے نزدیك غیبتِ زوج یا عسرت کے سبب عدم ادائے نفقہ باعثِ تفریق نہیں۔ |
٥١٠ |
|
مرتدہ کے لئے نفقہ نہیں۔ |
٢٦٣ |
کون سی عدت کا عورت نفقہ پاتی ہے اور کونسی عدت کا نہیں پاتی۔ |
٥٩٨ |
|
طلا ق کا جب سے اقرار کرے اسی وقت سے واقع مانی جائےگی نفقہ البتہ آج تك کا اور آج سے عدّت کا نفقہ دلائیں گے۔ |
۳۳۳ |
حجر |
|
|
بعد موتِ شوہر زمانہ عدّت یا اس کے بعد کا نان ونفقہ باتفاقِ مذہب صحیح حنفی و شافعی واجب نہیں۔ |
٤٧٢ |
لڑکے اور لڑکی کو جب آثار بلوغ ظاہر ہوں تو اس وقت سے وُہ بالغ ہیں اوراگر آثارِ بلوغ ظاہر نہ ہوں تو پندرہ برس عمر پوری ہونے پر بالغ سمجھ جائیں گے۔ |
٣٩٩ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع