30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طلاق رجعی سمجھی جائے گی کہ عدّت کے اندر شوہر کو رجعت کا اختیار ہوگا لیکن اگر زید قسم کھاکرکہہ دے کہ اس نے"طلاق ہے"سے ہندہ کو طلاق دینا مراد نہ لیا تھا اس کی بات مان لی جائے اور اصلًا حکمِ طلاق نہ ہوگا،اگر جُھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر رہے گا،
|
قال لھا لاتخرجی من الدار الّا باذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرہا فالقول لہ[1] (ردالمحتار عن البزازیۃ)واﷲتعالٰی اعلم۔ |
خاوند نے اگر بیوی کو کہا کہ میری اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکل کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے،تو اگر بیوی باہر نکل جائے تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے بیوی کی طلاق کی قسم کا ذکر نہیں کیاجبکہ دوسری کسی عورت کی طلاق کی قسم ہوسکتی ہے،لہذا یہاں خاوند کی بات معتبر ہوگی،جیسا کہ ردالمحتار میں بزازیہ سے منقول ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٣٢٨: ٣٠جمادی الاولٰی ١٣١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی ساس ہندہ کے یہاں رہتا تھا ہندہ نے اس سے مکان خالی کرنے کو کہا اس نے انکار کیا اس نے اس کا اسباب پھینك دینا چاہا اُس نے کہا اگر میرا اسباب پھینکوگی تو میں تمہاری لڑکی کو طلاق دے دوں گا،اس پر دو٢مرد اور ایك عورت تویہ گواہی دیتے ہیں کہ زید نے ہمارے سامنے طلاق دے دی،اور دو٢ مرد کہتے ہیں اس نے صرف یہ کہا کہ مال پھینکا تو طلاق دے دُونگا نہ اس نے پھینکا نہ اس نے طلاق دی،زید بھی طلاق دینے سے انکار کرتا ہے،اس صورت میں طلاق ثابت ہے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب:
ان دو٢ مردوں اور ایك عورت جو مدعی طلاق تھے ایك مرد کی نسبت معلوم ہوا کہ بے قید آدمی ہے یہاں تك کہ نماز کا بھی پابند نہیں،اور ایك مرد پہلے کہتا تھا اب وُہ منکر ہے کہ میرے سامنے طلاق نہ دی میں سُنی سُنائی کہتا تھا اور اس عورت کی عدالت معلوم نہیں،اور ہو بھی تو ایك عورت کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع