30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بوجہ شرم وغیرت خلقی کے کوفت وسوخت درونی کا کسی پر اظہار نہیں کرتی مگر تحلیل ہوتی جاتی ہے،چونکہ کریما ہنوز نوعمر و جوان ہے سیّد عبداﷲ ونیز دیگر اعزّاکا خیال ہے کہ بشرطِ رضا مندی مسمّاۃ کریما اس سے طلاقِ مسنونہ دلاکر دوسری جگہ مناسب پر اس کا نکاح کردیاجائے،پس اس ضرورت سے ہدایت خواہ ہوں کہ ایسے الفاظ اُردو کا کوئی فقرہ یا چند فقرات بتائے جائیں جس کو مسماۃ کریما اپنی زبان سے رُوبرو چند لوگوں کے ادا کرکے طلاق مسنونہ حاصل کرکے جس میں کوئی قباحت وسُقمِ شرعی باقی نہ رہے،اس طلاق مسنونہ حاصل کرنے کے متعلق جو طریقہ عمدہ ہو اور جوجوالفاظِ اُردُو مناسب ہوں اس سے مفصلًا وتصریحًا ہدایت فرمائی جائے۔
الجواب:
اس تحریرمیں امرھا بیدھا مختار کردیا نکاح سے خارج ہونا آزاد ہونا جتنے الفاظ ہیں سب کنایہ ہیں اور حالت حالتِ رضا ہے نہ غضب ہے نہ مذاکرہ طلاق،اور حالتِ رضا میں جملہ الفاظ نیتِ زوج پر موقوف رہتے ہیں،کریمًا اپنے آپ کو ایك طلاق دے کہ میں نے بحکم اس اختیار عام کے جو میرے شوہر نے مجھے دیا اپنے آپ کو شوہر کی طرف سے ایك طلاق دی اس پر زاہد علی سے دریافت کیا جائے کہ تُونے جو وُہ الفاظ لکھے اُن میں طلاق کا اختیار دینے کی تیری نیت تھی یا نہیں،اگر وُہ اقرار کرے فبھا،اور اگر انکار کرے تو اس پر حلف رکھا جائے،اگر حلف کرلے کہ میری نیت یہ نہ تھی تو طلاق نہ ہوگی۔اگر جھوٹا حلف کرے گا وبال اس پر ہے،اور اگر حلف سے انکار کردے گا تو طلاق ہوجائے گی،اور دونوں صورتوں میں بائن ہوگی۔عورت نکاح سے نکل جائے گی اگر اب تك خلوت نہ ہوئی تھی تو ابھی ورنہ بعد عدّت جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٣٢٧: از رامپور کوٹھی چڑیا خانہ مرسلہ حسین احمد صاحب دفعدار ٢٢صفر ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمّاۃ ہندہ بنتِ زید کا عقد بکر کے ساتھ اس شرائط سے ہُوا چنانچہ ایك اقرار نامہ بکر نے اسی وقت بعد عقد مذکور کے لکھ دیا کہ٢تولہ کی بالی طلائی اور ٤ماشہ کی نتھنی اندر میعاد چھ ماہ کے بنوادُوں گا ورنہ طلاق ہے،ہندہ میعاد مذکور پر اپنے باپ زید کے گھر چلی آئی،اقرار نامہ پر عمر خالد وغیرہ رشتہ دارانِ بکر کی گواہی اور بکر کے(العبد) انگوٹھے کے نشان موجود ہیں،پس اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں؟
الجواب:
اقرارنامہ کی نقل بھی ملاحظہ ہوئی اس میں بھی یہی لفظ ہے کہ"ورنہ طلاق ہے"یہ بیان نہیں کہ کس کو طلاق ہے،لہذا صُورتِ مستفسرہ میں باعتبارِ ظاہر جبکہ اس نے چھ٦مہینے کے اندر یہ چیزیں بنواکر نہ دیں ایک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع