30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ضرہ بخانہ ہماں وقت نفس خودم را اختیار کردہ بودم وشوہر منکر اصل ایں معنی ست میگوید کہ ہندہ ہیچ نگفت وبدر رفت دریں صورت قول کراست جواب نوشتم زید راست،بعد سہ سال چہارم بار ایں سوال آمد ودر ولفظے زائد است کہ تقییدِ مجلس از بیخ برانداخت بایں معنی باخبر باید بود اگرایں سوال متعلق بہمہ واقعہ است پس تبدیل کنندگاں از خدا ترسند اگر بہ تعبیر واقعہ حکمے از مفتی بدست آرند عالم الغیب والشہادۃ راچہ جواب دہند" فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعْدَمَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یُبَدِّلُوۡنَہٗؕ"[1]۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
زائد لفظ"جب چاہے"کا اضافہ نہ تھا بلکہ پہلی مرتبہ سوال میں،ہندہ کے عنوان سے لکھا گیا کہ"اب میں اقرار نامہ کے مطابق نہیں رہ سکتی ہوں،یہ کہا اور زید کے گھر سے چلی گئی،تو میں نے اس کا جواب دیا کہ یہ الفاظ طلاق نہیں بن سکتے اور اگر بالفرض ہندہ کے یہ الفاظ طلاق ہوں بھی تو اس کا پہلے اپنی سوکن کے ساتھ جھگڑا کرنا،لاتعلق اور اجنبی بات ہو نے کی وجہ سے اختیار والی مجلس تبدیل ہوگئی جس سے ہندہ کے ہاتھ طلاق کا اختیار جاتا رہا،لہذا ہندہ یعنی مائتون بی بی کو اس روز طلاق ہوئی جس روز اس نے خاوند سے خلع کیا،اور اسی دن سے عدّت واجب ہوئی اور اس کا مکمل ہونا ضروری ہے ورنہ اس کا نکاح حرام ہے،اس جواب کے بعدشوال والے سوال میں بھی خاوند کی طرف سے دئے گئے اختیار والی مجلس کی قید سے سوال کیا گیا اس کو جواب دیا گیا،اور ذیقعدہ والے سوال میں یہ بات زائد تھی کہ ہندہ دعوٰی کرتی ہے کہ خاوند نے صرف سوکن کی گھر آمد پر مجھے طلاق کا اختیار دیا تھا جس کو میں نے اس موقع پر استعمال کر لیا تھا،اور خاوند اس بات سے انکار کرتا ہے اور وُہ کہتا ہے کہ ہندہ نے اس موقع پرکچھ نہیں کہا اور گھر سے چلی گئی،اس صورت کے بارے میں سوال کیا گیا خاوند یا بیوی کس کی بات معتبرہے؟ میں نے جواب میں لکھا زید یعنی خاوند کی بات معتبر ہے۔مذکور تین بار سوال کے بعد چوتھی مرتبہ تین سال کے بعد اب یہ سوال آیا ہے اور اس میں ایك مزید اضافہ کیا گیا("اور جب چاہے اپنے آپ کو طلاق دے دے")لکھا گیا ہے اور مجلس کی قید والی صورت کو سرے سے ہی ختم کر دیا گیا لہذا اس معاملہ کی تحقیق ہو نی چاہئے اگر یہ آخری سوال بھی ان پہلے تین سوالوں کا واقعہ ہے تو پھر سوال میں تبدیلی کرنے والوں کو خدا سے ڈرنا چاہئے،اگرچہ سوال کی تبدیلی کے ذریعہ مفتی سے مطلب کا حکم حاصل کرلیں گے لیکن عالم الغیب والشہادت اﷲتعالٰی کے ہاں کیا جواب دیں گے۔جس نے اس کو سننے کے بعد تبدیل کیا تو گناہ بدلنے والوں پر ہے واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع