30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انقضائے عدّت نیست زن بحال خود عالمہ است می تواند کہ گاہے درسہ سال نیز سہ حیض تمام نشود ایں ست حکم صورت مسؤلہ، امافقیر می ترسم کہ ایں مسئلہ ہماں ست کہ در ١٣١٧ھ سہ باراز ہمیں سلہٹ نزد فقیر آمدہ بود وسائل ایں بار نیز گفت کہ ایں فساد از سہ سال آنجابرپاست،بار اوّل٦/رجب ١٣١٧ھ بیانے کہ آمدظاہرش آنست کہ ایں اقرار زید یعنی عبدالکریم پیش از نکاح ہندہ اعنی مائتون بود وآنجا نیز تصریح اضافت بملك یا سبب ملك نیست وقطع نظر ازاں ٦/رجب و١٩شوال و٢٢ذی قعدہ ١٣١٧ھ درسوالات ہر سہ بار ہیچ ذکرایں زیادت تازہ کہ ہر وقتیکہ باید نبود بلکہ در سوال اول لفظ ہندہ ہمیں قدر نوشتہ بود کہ اب میں مطابق اقرار نامہ نہیں رہ سکتی ہوں،ایں گفت واز خانہ بروں رفت جواب دادم کہ ایں الفاظِ طلاق نبود بالفرض اگر طلاق باشد پیش آنہاباز ضرہ خود جنگ وجدل سخنے فضول واجنبی بود مجلس متبد ل شد واختیار طلاق ازدست رفت طلاق ازاں روز شد کہ خلع کرد ازیں روز امر درعدت واجب ست ورنہ نکاح حرام،بریں واجب جواب در سوال شوال نیز ہمیں از تقیید بمجلس سوال کرد جواب رفت،در سوال ذیقعدہ فزود کہ ہندہ دعوٰی میکند کہ بمجرد آمدن |
اختیار دیا اور بیوی نے تین کو بیك لفظ اپنایا تو امام صاحب کے نزدیك کوئی طلاق نہ ہوگی اور ایك ایك کرکے تین طلاقوں کو اپنے لئے اختیار کیا تو پہلی ایك بالاتفاق واقع ہوگی کیونکہ لفظوں میں خاوند نے عدد کو ذکر نہیں کیا اس میں عموم اور خصوص دونوں کا احتمال ہے اس کی پوری بحث بحرمیں ہے ___ تو اگر بات ایسے ہی ہے جیسے سائل نے ظاہر کی ہے یعنی عبدالکریم نے اختیارسونپتے ہوئے"جب چاہے"بھی زائد کیا ہے،پس اندریں صورت مائتون بی بی کے طلاق کو اپنانے کے بعد تین حیض کامل گزرچکے ہوں اور اس کے بعد اس نے دوسرے شخص سے نکاح کیا ہے تو یہ نکاح جائز ہے ورنہ عدت مکمل ہوئے بغیر نکاح کیا تو یہ حرام ہے اور محض چار ماہ طلاق کے بعد گزرنا یہ عدت کے پورا ہونے کی قطعی دلیل نہیں ہے،اس کے متعلق عورت کو علم ہوتا ہے کیونکہ کبھی تین سال میں بھی تین حیض مکمل نہیں ہوتے،یہ صورت مسئولہ کا حکم ہے۔مجھ فقیر کو خطرہ ہے کہ یہ وہی مسئلہ ہو جو میرے پاس ١٣١٧ھ میں تین بار سلہٹ سے آیا تھا،اور سائل نے بھی ذکر کیا ہے کہ یہاں یہ فسادتین سال سے چلاآرہا ہے۔پہلی بار ٦/رجب١٣١٧ھ کویہ سوال آیا تو اس میں یہ بیان تھا کہ زید یعنی عبدالکریم کا یہ اقرار نامہ نکاح سے پہلے لکھا گیا ہے اور اس میں مائتون سے نکاح کی ملکیت یا سبب کا ذکر بھی نہ تھا،اس سے قطع نظر ٦/رجب ١٩ شوال اور ٢٢ ذیقعدہ ١٣١٧ تین مرتبہ سولات کئے گئے جن میں اس تازہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع