30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بنفسہ ولیس فیہ التنصیص علی تفویض طلاق واحد حتی ینافیہ اختیار الثلاث عند الامام انما ھو کلام مطلق لیشتمل کل بینونۃ بواحد اتت اوباکثر فصح علی ھذا ایضا وان لم تبن الابواحدۃ،وعلی الاول بثلث،قال فی ردالمحتار لایقع شیئ فیما اذاامرھا بالواحدۃ فطلقت ثلثا بکلمۃ واحدۃ عند الامام امالوقالت واحدۃ وواحدۃ وواحدۃ وقعت واحدۃ اتفاقا لانہ لم یتعرض للعدد لفظا واللفظ صالح للعموم والخصوص وتمامہ فی البحر[1]، اگرایں سخن ہمچناں راست باشد کہ سائل وانمود یعنی درکلام عبدالکریم لفظ(ہروقتیکہ باید)نیز زائد بود پس دریں حالت اگر پس آں طلاق مائتون راسہ حیض کامل آمدہ ختم شدہ بود بعد آں نکاح باشخصے دیگر کرد جائز باشد ورنہ حرام،ووقوع ایں معنی بعد چارماہ از طلاق اولیں دلیل قطعی
|
بعد نہیں رہتا کیونکہ یہ تملیك ہے،لیکن اگر"جب چاہے"کا لفظ زائد کیا ہو یا اس کی مثل اور کوئی عموم وقت کےلئے لفظ زائد کیا ہوتو پھر مجلس کی قید کے بغیر مطلقًا طلاق ہوگی،پس اس صورت میں مائتون بی بی کا اپنے آپ کو طلاق دینا درست ہوا اور وہ عبدالکریم کے نکاح سے خارج ہوگئی ہے،اگرچہ عبدالکریم اس کارروائی کے دوسرے روز اس کے خلاف اقدام کرکے رَد بھی کردے،تاہم نکاح ختم ہوگیا ہے،یہ اس لئے کہ اس نے"جس وقت چاہے"کالفظ ذکر کیا اور یہ تین طلاقوں کی تفویض کی وضاحت ہے،جیسا کہ عرف میں اس محاورہ کے استعال سے متبادر طور پر مفہومًا سمجھا جاتا ہے،اور اگر بعینہ اس کو کلام فرض کیا جائے تو یہ بنفسہٖ تفویض ہوگی اور تفویض میں چونکہ ایك طلاق کا ذکر نہیں ہے اس لئے یہاں تین طلاقوں کو اختیار کرنا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ہاں منافی نہ ہوگا،(ہاں اگر بیوی تین طلاقوں کو بیك لفظ کی بجائے"ایك اور ایك اورایک"تین مرتبہ کہتی ہے تو پھر بالاتفاق ایك ہوتی)لیکن یہاں تو مطلق کلام ہے جس میں ایك یا زیادہ بائنہ طلاقیں ہوں سب کو شامل ہے،تو اس بناء پر بھی تین طلاقیں اپنانا درست ہے اگرچہ علیحدہ علیحدہ کہنے میں ایك ہی سے بائنہ اور بیك لفظ میں تین طلاقوں سے ہی بائنہ ہوجاتی ہے،ردالمحتار میں ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو ایك طلاق کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع