30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
روپیہ دادہ خلع کرد عبدالکریم مائتون بی بی را سہ طلاق داد پس مائتون بی بی بعد یك روز بامرد دیگر نکاح خود کردپس ایں نکاح جائز شد یا نہ،بابراہین شرعیہ ودلائل قویہ باید نوشت،مخفی نماند کہ از سہ سال دربارہ ایں مسئلہ اختلاف ست،بینوا توجروا۔ |
گھر چلی گئی،اس کے بعد عبدالکریم نے اپنے اقرار نامہ کے برخلاف مائتون بی بی پر اپنی زوجیت کا دعوٰی کردیا،تو مائتون بی بی نے جنگ وجدال سے بچتے ہوئے عبدالکریم کو اس کے دعوٰی کے عوض ستّر روپے خلع کے طور پر چار ماہ بعد اداکردئے،تو عبدالکریم نے اس وقت مائتون بی بی کو تین طلاقیں دیں،تو اس کے ایك روز بعد مائتون بی بی نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا،تو کیا اس کایہ نکاح جائز ہے یانہیں؟براہین شرعیہ اور دلائل قویہ سے جواب لکھا جائے۔ یادرہے کہ اس مسئلہ میں تین سال سے اختلاف چلا آرہا ہے، بینواتوجروا۔ |
الجواب:
|
اگر عبدالکریم آں نامہ پیش از نکاح نوشت وآنجا الفاظ ہمیں قدر بود کہ سائل ذکر نمود بزنے گرفتن مائتون شرطا بالتصریح مذکور نبود مثلًا اگر ترانکاح کنم وباز برتو زنے دیگر بزنے گیرم واوبخانہ ام آید پس ترا اختیار سہ طلاق ست الخ پس دریں صورت آں نامہ لغووباطل ست وبزنے گرفتن منکوحہ اولٰی خواہ غیراومائتون راہیچ اختیار طلاق دادن خودش رواندارد اوہمچناں زن عبدالکریم است تاآنکہ خلع کرد وعبدالکریم سہ طلاق داد ازیں وقت مطلقہ شد وعدّت بروواجب آمد پیش ازمرورعدت نکاحی کہ بامرددیگر کردناجائز وباطل وزنا وحرام بوداز باز ماندن فرض ست قال اﷲتعالٰی وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍؕ[1]وردالمحتار ست لو قال لھا |
اگر عبدالکریم نے وُہ تحریر نکاح سے پہلے لکھی ہو اور اس میں وہی الفاظ ہوں جو سائل نے تحریر کئے ہیں جس میں مائتوں بی بی سے نکاح کو بطور شرط صراحۃً ذکر نہیں کیا گیا،مثلًا یہ صورت ہو کہ اگر تجھ سے نکاح کروں اور پھر تجھ پردوسری عورت کو بیوی بناؤں اور وہ میرے گھر آئے توتجھے تین طلاقوں کا اختیار ہے الخ___تو ایسی صورت میں یہ تحریر لغو اور باطل ہے،اور پہلی بیوی یا کسی دوسری کو نکاح کرکے گھر لائے تو مائتون بی بی کو اختیار نہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو تین طلاق دے وُہ بدستور عبدالکریم کی بیوی ہوگی اور خلع کے بعد اس کو عبدالکریم کے تین طلاق دینے پر وہ مطلقہ قرار پائی اور اس وقت سے اس کی عدت شمار ہوئی،اور عدت پوری ہونے سے قبل دوسرے شخص سے اس کا نکاح حرام، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع