30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تیسرے یہ کہ اُن کے گزرتے ہی
اسی مجلس میں بے کسی اجنبی بات کے زینب نے اپنے آپ کو طلاق دے لی ہو۔
ان تین امور سے اگر ایك بھی کم ہے دعوٰی طلاق محض غلط وباطل ہے اب اگر زید ان
تینوں باتوں کے وجود کا مقر ہوتو آپ ہی طلاق ثابت ہوجائے گی،اور اگر ان میں بعض کا
منکر ہوتو امر اوّل ودوم میں زینب پر گواہ دینے ضرور ہیں،شہادتِ شرعیہ سے ثابت کرے
کہ شوہر نے اسے تفویض طلاق بروجہ مقبول شرعی کی اور چھ مہینے بے نفقہ وخبر گیری
گزرگئے اگر گواہانِ عادل سے اسے ثابت نہ کرسکے گی تو زید کا قول قسم کے ساتھ مان
لیا جائے گا اور طلاق ثابت نہ ہوگی،اور امر سوم میں اگر زید کو سرے سے بعد حصول
شرط زوجہ کی جانب سے ایقاعِ طلاق صادر ہونے ہی کا انکار ہے جب بھی گواہ ذمّہ زینب
ہیں اور اگر ایقاع بھی زیدکو تسلیم ہے تو گواہ دینا زید پر لازم ہے یعنی صحتِ
تفویض وانقضائے ششماہی وایقاع طلاق زید کو تسلیم یا گواہوں سے ثابت ہے اور تنقیح
صرف اس بات کی باقی ہے کہ اس مدت گزرنے پر زینب نے اسی مجلس میں اپنے آپ کو طلاق
دے لی یا بعد زینب کہتی ہے اسی وقت میں نے دے لی تھی اور زید منکر ہے،تو اس کا بار
ثبوت زید پر ہے،یہ گواہوں سے ثابت کرے کہ جس وقت چھ مہینے گزرے ہیں زینب بے طلاق
دئے ہوئے کسی اور کام میں مشغول ہوگئی اگر ثابت کردے گا طلاق نہ ہوگی ورنہ زینب کا
قول قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور طلاق ثابت کردیں گے۔درمختار میں ہے:
|
قالت طلقت نفسی فی المجلس بلاتبدل وانکر فالقول لہا،جعل امرھا بیدھا ان ضربھا بغیرجنایۃ فضربھا ثم اختلفافالقول لہ لانہ منکر وتقبل بینتھا علی الشرط المنفی[1]،کما سیجی۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
بیوی نے کہا میں نے مجلس تبدیل کئے بغیر اپنے آپ کو طلاق دے دی ہے،اور خاوند اس کاا نکار کرتا ہے تو بیوی کی بات معتبر ہوگی،مرد نے عورت کو طلاق کا اختیار دیا اگر وہ اس کے بغیر قصور مارے،پھر خاوند نے بیوی کو پیٹ دیا تو اب بغیر قصور پیٹنے کی شرط پائے جانے،میں خاوند بیوی کااختلاف ہوا تو خاوند کا قول معتر ہوگا کہ وہ منکر ہے،اگر عورت شرط کے نہ پائے جانے کے موقف پر خاوند کے خلاف شہادت پیش کرے تو قبول کی جائے گی جیسا کہ عنقریب ذکر آئیگا۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ٣٢٥: ازملك بنگالہ ضلع سلہٹ مرسلہ مولوی عبدالحکیم صاحب ٢١شعبان١٣٢٠ھ
|
چہ مے فرمایند علمائے دین شرع متین اندریں مسئلہ کہ عبدالکریم میاں مسماۃ ٹکخبنگ بی بی را |
علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ عبدالکریم نے مسماۃ ٹکخبنگ بی بی سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع