30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذکور ہوئے تو اس صورت میں عورت کو بر تقدیر نکاح ثانی کوئی اختیار طلاق دے لینے کا حاصل نہ ہو ااس کا اپنے نفس کو طلاق دینا کافی نہیں جب تك شوہر اس طلاق کو نافذ نہ کرے،
|
فان الملك اوالاضافۃ(الیہ لابد منہ ولم یوجد،او طلاق الفضولی یتوقف عندنا علی اجازۃ الزوج۔ |
کیونکہ طلاق دیتے وقت ملکیت یا اس کی طرف نسبت کاموجود ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں یہ موجود نہیں،یا یہ کہ یہ فضولی کی طلاق ہے جبکہ فضولی کی طلاق خاوند کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے(ت) |
پیش از نکاح جو ان الفاظ سے شرط کی جائے لغو ومہمل ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٣٢٤: ازبنگالہ ٢٠ربیع الآخر شریف١٣١٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اس شرط پر زینب سے نکاح کیا کہ اگر تم کو چھ٦ مہینے تك بے خوراك وبے خبری چھوڑوں گا تو اختیار ایقاع تین طلاق کی ملك تیرے ہاتھ دے دیا،اب زید نے بعد ایك سال کے اپنی منکوحہ کو خوش وراضی کرکے فی ماہ خوراك مقرر کرکے واسطے کسی کام کے سفر میں گیا اور تین گواہ بھی موجود ہیں،اب بعد چند روز کے منکوحہ زید دعوٰی کرتی ہے کہ میری طلاق واقع ہوگئی،آیا یہ دعوٰی زینب صحیح ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر الفاظ شرط کہ زید نے کہے یہی ہیں جوسوال میں مذکور ہوئے تو اس میں چار٤صورتیں ہیں:
اوّل یہ لفظ زید نے پیش از نکاح کہے اگرچہ اسی وقت معًا نکاح کرلیا۔
دوم خاص ایجاب وقبول میں شرط کی اور ابتدائے ایجاب اس شرط کے ساتھ جانبِ زید سے تھی یعنی زید نے کہا میں تجھے اپنے نکاح میں لایا اس شرط پر کہ اگر تجھ کو چھ٦مہینے تك الخ،زینب نے کہا میں نے قبول کیا۔
سوم شرط خود عقد میں تھی اور ابتدائے ایجاب زینب کی طرف سے مثلًا زینب یا اس کے وکیل نے کہا میں نے اپنے نفس یا اپنی مؤکلہ زینب بنت فلاں بن فلاں کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ اگر تو تیرے چھ٦مہینے تك الخ،زید نے کہا میں نے قبول کیا،یا زینب خواہ وکیل نے کہا میں نے اپنے نفس یا مؤکلہ مذکورہ کو تیرے نکاح میں دیا،زید نے کہا میں نے قبول کی اس شرط پر کہ اگر میں تجھ کو چھ٦مہینے تك الخ۔
چہارم یہ شرط بعد تحقق ایجاب وقبول کی،پہلی دو٢ صورتوں میں سرے سے یہ تفویض طلاق یعنی زینب کو بشرطِ مذکور طلاق کا اختیار دینا ہی صحیح نہ ہوا،اگر بالفرض زید چھ برس بے نفقہ وبے خبر گیری چھوڑے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع