30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ ایسے ہی وقت طلاق دی جس سے اُس کا یہ قصد پورا ہو یعنی مجلس بدلنے سے پہلے تو اس صورت میں شوہر خلافِ ظاہر دعوٰی کرتا تھا،لہذا قول عورت کا معتبر ہوا،اور یہاں شوہر سرے سے ایقاعِ طلاق ہی کا اقرار نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے کہ ہندہ بے طلاق دئے چلی گئی،اور ہندہ دعوٰی طلاق کرتی ہے تو وُہ زوال نکاح کی مدعیہ اور شوہر منکر ہے،لہذا قولِ شوہر معتبر ہے،اور اختیارِ طلاق دئے جانے سے خواہی نخواہی یہی ظاہر نہیں کہ عورت طلاق ہی اختیار کرے گی،جامع الفصولین میں ہے:
|
ت(ای الزیادات)قال امرك بیدك فطلقت نفسھا فقال انّما طلقت نفسك بعد الاشتغال بکلام او عمل وقالت بل طلقت نفسی فی ذٰلك المجلس بلا تبدل فالقول قولھا لانہ وجد سببہ باقرارہ محم (ای مختصرالحاکم)قال خیرتك امس فلم تختاری وقالت قد اخترت فالقول قولہ شخ(ای شمس الائمۃ السرخسی)قال لِقِنّہ جعلت امرك بیدك فی العتق امس فلم تعتق نفسك قال القن فعلتہ لا یصدق اذ المولٰی لم یقربعتقہ لان جعل الامر بیدہ لایوجب العتق مالم یعتق القن نفسہ والقن یدعی ذٰلك والمولی ینکرہ ولاقول للقن فی الحال لانہ یخبربما |
ت(یعنی زیادات)میں ہے،خاوند نے بیوی کو کہا کہ"تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے"تو اس پر بیوی نے اپنے آپ کو طلاق دے دی،اس کے بعد خاوند نے اسے کہا کہ تُونے اختیار کے بعد مجلس میں کسی تبدیلی کے بغیر اپنے کو طلاق دی ہے تو اس صورت میں بیوی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ بیوی کی تصدیق کا سبب خاوند کا اپنا اقرار ہے کہ(بیوی نے طلاق دی ہے)وُہ پایا گیا ہے محم(یعنی مختصر الحاکم)،خاوند نے بیوی کو کہا"میں نے تجھے کَل اختیار دیا تھا تو نے اپنا اختیار استعمال نہ کیا"تو جواب میں بیوی نے کہا"میں نے اختیار کو استعمال کرلیا ہے"تو خاوند کی بات معتبر ہوگی شخ(یعنی شمس الائمہ سرخسی)،مالك نے اپنے غلام کو کہا کہ"میں نے تجھے کَل آزاد ہونے کا اختیار دیا تو تُونے اپنے آپ کو آزاد نہ کیا"تو غلام نے کہا"میں نے کرلیا ہے"تو غلام کی بات معتبر نہ ہوگی کیونکہ مالك نے اس کی آزادی کا اقرار نہ کیا،کیونکہ محض آزادی کا اختیار دینا عتق کولازم نہیں کرتا جب تك مالك کے اختیار پر غلام اپنے آپ کو آزاد نہ کرلے،جبکہ غلام اسکا مدعی ہے اور مالک |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع