30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ کہی بلکہ گھر سے باہر گئی اور زینب سے جنگ وخصومت کی،اس اختلاف میں عندالشرع گواہ معتبر ہے یا قولِ ہندہ معتبر؟مع الدلیل بیان فرمائیں،اگر ہندہ اس دعوٰی مذکور کے بنا پر بعد تین مہینے کے بکر کے پاس نکاح بیٹھے تو یہ نکاح صحیح ہُوا یا نہیں؟ اور باوجود اس دعوی مذکورہ کے ہندہ نے زید سے خلع کیا تو یہ خلع عندالشرع معتبر ہے یانہیں؟معترض کہتا ہے اگر وُہ دعوٰی ہندہ صحیح ہوتا تو کیوں خلع کیا،ہندہ کہتی ہے بسبب خوفِ حاکم خلع کیا تھا،نہ عدمِ اختیار نفس کے اختلافِ زوجین کی صورت میں قولِ زوجہ عالمگیری میں ثابت ہے جیسا کہ:
|
واذاجعل امرھا بیدھا وطلقت نفسھا وقال الزوج انما طلقت نفسك بعد اشتغالك بکلام او بعمل، وقالت بل طلقت نفسی فی ذٰلك المجلس من غیران اشتغل بکلام اٰخروبشیئ اٰخر فالقول قولھا وقع الطلاق کذافی فصول الاستروشنی[1]،انتہی۔ |
اگر خاوند نے بیوی کو اس کی طلاق کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا،اور بیوی نے اس پر اپنے آپ کو طلاق دے دی اور خاوند نے کہا چونکہ تو دوسرے کام میں مشغول ہوگئی تھی یادوسری بات میں مشغول ہوچکی تھی،اور اس کے بعد تو نے طلاق دی ہے اور بیوی نے خاوند کے اس الزام کا انکار کرتے ہوئے کہا"نہیں بلکہ میں نے اسی مجلس میں اپنے آپ کو طلاق دے دی ہے اور میں کسی دوسرے کام میں مشغول یا اجنبی بات میں مشغول نہیں ہوئی"تو بیوی کی بات معتبر ہوگی،اور بیوی کی دی ہوئی طلاق واقع ہوجائیگی،استروشنی کے فصول میں یُوں ہی مذکور ہے۔انتہی (ت) |
اس صورت مسطور میں عندالشرع کس کی دلیل معتبر ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب:
صورتِ مستفسرہ میں قولِ زوج قسم کے ساتھ معتبر ہے،ہندہ جب تك گواہان عادل شرعی دو٢ مرد یا ایك مرد دو٢ عورتوں کی شہادت سے ثابت نہ کرے کہ میں نے اسی مجلس میں اپنے نفس کو طلاق دے لی تھی اس کی بات ہرگز نہ سُنی جائے گی نہ اسے بکر سے نکاح کی اجازت ہوگی خلع جو کیا صحیح ہے،خلع کی عدت گزرنے پر جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے،اس صورت واقعہ اور صورت مسئلہ فتاوٰی عالمگیری میں فرق عظیم ہے وہاں شوہر کو بھی تسلیم تھا کہ عورت نے اپنے نفس کو طلاق دی مگر یہ کہتا تھا کہ اس کا یہ طلاق دینا باطل واقع ہوا کہ بعد تبدلِ مجلس تھا،یہ صراحۃً خلافِ ظاہر ہے کہ جب عورت نے بعد تخییر طلاق کا قصد کیا توظاہر یہی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع