30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شوہر نے عورت کوگھر سے نکالتے وقت کہا"تونکل جا، آج سے مجھ سے اور تجھ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں"بعد میں پوچھنے پر شوہر نے اقرار کیا"میں اس کو اسی تاریح سے چھوڑ چکا ہوں جب وہ گئی"اس صورت میں طلاق بائن واقع ہوگئی۔ |
٦١٨ |
کسی شخص نے اپنی بیوی کے بارے میں کہا کہ"وہ میرے کام کی نہیں رہی"اور نیتِ طلاق سے انکار کرتا ہے تو بیوی اس سے حلف لے سکتی ہے اگر حلف سے انکار کرے تو قاضی کے سامنے پیش کیا جائے وہاں بھی انکاری ہو تو طلاق بائن ہوگی۔ |
٦٢٣ |
|
عرصہ چھ٦ سال اگرچہ تین حیضوں کا گزرجانا ظاہر ہے مگر نہ گزرنے جانا ظاہر ہے مگر نہ گزرنے کا بھی احتمال ہے اور جب تك تین حیض نہ گزریں حیض والی عورت کی عدت ختم نہیں ہوتی۔ |
٦١٨ |
"میں عائشہ بیگم کو اختیار دیتا ہوں چاہے کسی سے عقد کرے یابیٹھی رہے، مجھے کچھ عذر نہیں"ان الفاظ سے بشرطِ نیت طلاق واقع ہوگی۔ |
٦٢٤ |
|
طلاق پہلے دی، اقرار بعد میں کیا، اگر طلاق کے وقت سے ہی جدا ہوں توعدت اسی وقت سے لی جائے گی اور ساتھ رہتے ہوں تو وقتِ اقرار سے۔ |
٦١٨ |
"چلی جا"نیت طلاق سے طلاق ہے۔ |
٦٢٤ |
|
قولِ امام محمد کہ عدت وقتِ طلاق سے اور فتوائے متاخرین کہ وقتِ اقرار سے ہے، ان میں تطبیق وتوفیق۔ |
٦١٨ |
"میرے مطلب کی نہیں"بشرطِ نیت طلاق ہے۔ |
٦٢٥ |
|
بے اضافت صریح طلاق میں مدار نیت پر ہوگا۔ |
٦٢٠ |
حاملہ کی عدت واضع حمل ہے۔ |
٦٢٥ |
|
"آزاد کیا"سے محلِ غضب میں طلاق بائن ہوجائیگی، لیکن عورت کی طرف اضافت نہ ہوتو مدار شوہر کی نیت پر ہوگا۔ |
٦٢١ |
بلاثبوت طلاق اور عدت کے اندر دوسرا نکاح حرام ہے۔ |
٦٢٥ |
|
"چلی جا"کنایات سے ہے۔اگر اس پر حلف لینے سے انکار کرے کہ میں نے اپنی عورت مراد نہیں لی تھی تو معاملہ قاضی کے سامنے پیش کیا جائے۔ |
٦٢١ |
"ہفتہ کے اندر میرے پاس نہ آئے تو جہاں چاہے جائے، تجھ اختیار تیرے دل کا مجھے اختیار میرے دل کا"بشرطِ نیت طلاق ہے۔ |
٦٢٦ |
|
غصہ اور حمل کی حالت میں نیز عورت دور ہو تب بھی طلاق واقع ہوجائے گی۔ |
٦٢٢ |
کنایہ میں شوہر نیت کے بارے میں حلف سے انکاری ہوتو حاکمِ شرعی کے حضور نالش کی جائے اگر شوہر اس کے سامن بھی قسم کھانے سے انکار کرے تو طلاق ثابت ہوجائے گی۔ |
٦٢٦ |
|
"وہ بالکل میرے کام کی نہ رہی"بشرطِ نیت طلاق واقع ہوگی۔ |
٦٢٣ |
"میں پسند نہیں ہُوں تو دوسرے سے نکاح کردو"اس جملہ سے حالت مذاکرہ وغضب میں طلاق واقع ہوگی۔ |
٦٢٦ |
|
|
|
"اپنے گھر کو چلی جا میرے کام کی نہیں، میں نے تجھے طلاق دی"عدمِ نیت کی صورت میں صرف آخری لفظ سے طلاق رجعی پڑے گی۔ |
٦٢٧ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع