30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لی فیك فانہ لایقع وان نوی١[1]۔ |
مجھے تیری خواہش نہیں،تجھ میں میرے لئے رغبت نہیں"تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔(ت) |
لفظ ہشتم بھی محض لغو وغلط ہے کہ ایك باطل خیال جہاں پر نکاح سے باہر ہونا بتاتا ہے بے اجازتِ شوہر عورت چلی جائے تو نکاح سے باہر نہیں ہوتی اور جو اقرار غلط بنا پر ہومعتبر نہیں۔خانیہ میں ہے:
|
صبی قال ان شربت فکل امرأۃ تزوجہا فھی طالق فشرب وھو صبی فتزوج وھو بالغ وظن صھرہ ان الطلاق واقع فقال ھذا البالغ(آرے حرام است برمن) لا تحرم امرأتہ ھوالصحیح لانہ ما اقربالحرمۃ ابتداء وانما اقربالسبب الذی تصادقا علیہ وذٰلك السبب باطل [2]اھ ملخصًا۔ |
ایك بچے نے کہا"اگر میں یہ پی لوں تو جس عورت سے بھی نکاح کروں تو اس کو طلاق"پھر اس نے دوران بچپن وُہ چیز پی لی،پھر بالغ ہونے کے بعد اس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے سسرال نے خیال کیا کہ اس کے مذکور قول کے مطابق کی وجہ سے طلاق ہوگئی تو اس لڑکے نے کہا"ہاں یہ مجھ پر حرام ہے"تو اس صورت میں صحیح قول کے مطابق اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہوگی،کیونکہ یہاں ابتداءً بیوی کو حرام نہیں کہا بلکہ اس نے اس سبب کے وجود کا اقرار کیا جس پر یہ دونوں سچے اور جس سبب پر اس نے یہ اقرار کیا وُہ باطل ہے اھ ملخصًا(ت) |
بقیہ چار الفاظ میں تین لفظ پیشین کا حاصل اجازتِ نکاح دینا ہے اور وہ بیشك کنایات سے ہے،
|
فانہ ینبئ عن رفع قید النکاح واخراجھا عن عصمۃ لنفسہ کقولہ تزوجی[3] کما فی الخانیۃ وابتغی الازواج ٤[4] کما فی الکنز ووھبتك للازواج [5] کما فی |
کیونکہ یہ الفاظ نکاح کی قید کو ختم کرنے کی خبر دیتے ہیں اور اپنی عصمت سے نکالنے کی خبر دیتے ہیں جیسے کہ خاوند یوں کہے"تو نکاح کر"جیسا کہ خانیہ میں ہے"تو خاوند تلاش کر"جیسا کہ کنز میں ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع