30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُسی میں ہے:
|
لوقیل لرجل اطلقت امرأتك فقال عدھا مطلقۃ اواحسبھا مطلقۃ لاتطلق امرأتہ [1]اھ تمام تحقیق ذٰلك فی فتاوٰنا المفصلۃ۔ |
ایك شخص نے دوسرے سے کہا"کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے"اور دوسرا جواب میں کہے"تُواس کو طلاق دی ہوئی شمار کرلے تو مطلقہ سمجھ لے"تو بیوی کو طلاق نہ ہوگی اھ،اس کی مکمل تحقیق ہمارے مفصل فتووں میں ہے۔(ت) |
لفظ پنجم ظاہرًا ترك نزاع کا وعدہ ہے،
|
"آگے بمعنی آئندہ"اوھو تعلیق علی الانکاح ان ارید بقولہ"آگے"بعد الانکاح،او اخبار عن النیۃ فی بعض الالفاظ السابقۃ ان ارید بہ من بعدما کتبت ھذا۔ |
آگے بمعنی آئندہ یایہ نکاح کردینے پر معلّق ہے اگر اس نے"آگے"کے لفظ سے نکاح کردینے کے بعد کی نیت کی ہو،یا پہلے مذکور الفاظ میں سے کسی لفظ میں نیت کی خبردینا ہے جبکہ اس نے وہ لفظ لکھنے کے بعد مراد لی ہو۔اسے محفوظ کرلو۔(ت) |
لفظ ششم بھی الفاظِ طلاق سے نہیں،سر بمعنی خیال وخواہش اور کاربمعنی حاجت ہے،سروکار نہیں یعنی غرض،مطلب حاجت کام نہیں،اور ان الفاظ سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیتِ طلاق کہے۔خانیہ وبزازیہ وغیرہما میں ہے:
|
لوقال لاحاجۃ لی فیك ونوی الطلاق لایقع وکذالو قال مرابکارنیستی وکذالو قال مااریدک٢[2]۔ |
اگر خاوند نے کہا"مجھے تجھ میں کوئی حاجت نہیں' ' تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی۔یوں ہی اگر اس نے کہا"تو میرے کام کی نہیں"یوں ہی اگر اس نے کہا"میں تجھے نہیں چاہتا"تو طلاق نہ ہوگی۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
اذاقال لاحاجۃ لی فیك اولااریدك او لااحبك اولا اشتھیك اولارغبۃ |
اگرخاوند نے یہ الفاظ کہے"مجھے تجھ میں حاجت نہیں،میں تجھے نہیں چاہتا،میں تجھے پسند نہیں کرتا، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع