30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ٣١٨: ٢٣جمادی الآخرہ ١٣٣٨ھ
زید نے اپنی بی بی سے کہا کہ"جا میں نے تجھے چھوڑدیا"اور چند مرتبہ اور چند آدمیوں کے سامنے یہی کہا کہ"میں نے اس کو چھوڑدیا"مگر"طلاق"کا لفظ نہیں کہا تو طلاق ہوئی یانہیں؟
الجواب:
اگر تین بار کہا تین طلاقیں ہوگئیں،اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا اور تین بار سے کم کہا اور عدّت گزرگئی تو دوسرا نکاح آپس میں کرسکتے ہیں،اور عدّت نہ گزری تو مرد کا اتنا کہنا کافی ہے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٣١٩: ازشہر بریلی محلہ ذخیرہ مسئولہ سیدشرافت علی صاحب ٧رجب مرجب ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی بیوی اپنے میکہ میں ہے،زید کے گھر سے ایك آدمی اس کو لینے گیا،اس کے والدین نے نہیں بھیجا،دوسرے دن زید خود گیا پھر بھی نہیں بھیجا اور نہ کوئی وجہ خاص بتلائی،زید کو ناگوار ہوا اس نے کہا کہ"اگر آپ نہیں بھیجتے تو آپ کی لڑکی کوجواب دے دُوں گا اور آپ اس وقت دوچار آدمیوں کو بلوالیجئے تاکہ میں اس وقت اُن کی موجودگی میں جواب دے دُوں اور قطع تعلق کرلوں۔"زیدکے خسر او ساس نے جواب دیا کہ"نہ ہم آدمیوں کو جمع کریں گے اور نہ جواب لینا منظور ہے"زید یہ کہہ کر کہ"میں اس وقت سے جواب دیتا ہوں اور اپناکوئی تعلق نہیں رکھتا اور کل بذریعہ رجسٹری ڈاکخانہ سے دوبارہ آپ کو اطلاع دُوں گا"۔دوسرے دن اس نے یہ لکھ کر کہ"میں قطع تعلق کرتا ہوں اور طلاق دیتاہوں"رجسٹری کردی،زید کے خُسر نے واپس کردی،زید پردیس چلاگیا وہاں سے دو٢ماہ کے بعد آیا اس وقت زید کے ایك عزیز نے جو کہ اس کی بی بی کا قریبی رشتہ دار تھا،زید سے مل کریہ چاہا کہ بیوی سے صلح ہوجائے،زید نے اس کو یہ جواب دیا کہ"میں طلاق دے چکاہوں اب صلح کیسی"وُہ خاموش ہوگیا،چنانچہ ایك اور آدمی سے بھی زید نے یہ کہا کہ"میں اپنی بی بی کو طلاق دے چُکا ہوں"اب زید معلوم کرنا چاہتا ہے کہ اس کی بی بی کو طلاق ہوگئی یانہیں؟
الجواب:
طلاق ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی،اگر اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دے چکا تھا تو برضائے زن اس سے نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی حاجت نہیں،اور اگر پہلے ایك طلاق بھی دے چکاتھا تو اب بے حلالہ نہیں کرسکتا کہ تین ہوگئیں ایك پہلے اور ایك اس وقت اس کا کہنا کہ"میں اس وقت سے جواب دیتا ہوں اور اپنا کوئی تعلق نہیں رکھتا"__________________پھر لکھنا کہ"میں قطع تعلق کرتا ہوں"یہ مجموع ایك ہی ہوگی فان البائن لایلحق البائن والنیۃ قد ظہرت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع