30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
اس صورت میں عورت نکاح سے نکل گئی،اس پر ایك طلاق بائن ہوگئی،آدھا مہر شوہر پر واجب الادا ہوا،عورت کو عدت کی ضرورت نہیں جس وقت چاہے نکاح کرلے،اگر اس شوہر سابق ہی سے راضی ہوتو اس سے بھی نکاح ہوسکتا ہے حلالے کی حاجت نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٣١٧:مسئولہ مولانا حشمت علی صاحب سنی حنفی قادری رضوی لکھنوی متعلم مدرسہ اہلسنت وجماعت ١٩رجب شریف یومِ جمعہ ١٣٣٨ھ بریلی شریف
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے اپنی ساس سے کہا"میں تمہاری لڑکی کو چھوڑتا ہوں میرے کام کی نہیں"اب سوال یہ ہے کہ طلاق ہوئی یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
دوطلاقیں بائن ہوگئیں،عورت نکاح سے نکل گئی،عدت کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور اگر رخصت نہ ہوئی تھی تو عدّت کی بھی حاجت نہیں،اور اگر زید ہی سے نکاح چاہے تو اس سے بھی کرسکتی ہے عدّت میں خواہ عدّت کے بعد،جبکہ اس سے پہلے کوئی طلاق اسے نہ دے چکاہو کہ ایسا تھا توتین ہوگئیں بے حلالہ نہیں ہوسکے گا،
|
وذٰلك لان اللفظ الاول صریح فوقع بہ طلاق وان لم ینو وصار الحال بہ حال المذاکرۃ واللفظ الثانی لا یحتمل الرد بل السب فاستغنی عن النیۃ لاجل المذاکرۃ،والواقع بہ بائن لانہ من الکنایات غیر الثلاث المعلومۃ اعتدی واخیہا فلحوقہ جعل الرجعی الاوّل ایضا بائنا لامتناع الرجعۃ بالثانی فبانت بثنتین۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ پہلا لفظ صریح ہے اس لئے یہ طلاق ہوئی اگرچہ نیت نہ بھی ہو،اس سے مذاکرہ طلاق کا حال ہوگیا،اور دوسرا لفظ صرف ڈانٹ کا احتمال رکھتا اور جواب نہیں بن سکتا،لہذا یہاں نیت کی ضرورت نہیں کیونکہ مذاکرہ طلا ق ہوچکا ہے،اس سے بائنہ طلاق ہوئی کیونکہ یہ کنایات میں سے ہے لیکن اعتدی اور اس جیسے الفاظ کنایہ تین میں سے نہیں ہے،لہذا اس دوسرے لفظ سے پہلی صریح طلاق بھی بائنہ ہوگئی کیونکہ دوسری بائنہ ہے جس کی وجہ سے پہلی میں رجوع ممکن نہ رہا،لہذا بیوی کو دو٢بائنہ طلاقیں ہوئیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع