30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اگر واقعہ اسی قدرہے عورت نے یاکسی اور نے عورت کے لئے طلاق نہ مانگی تھی جس کے جواب میں یہ لفظ اس نے کہے نہ اس نے ان الفاظ کو مکرر کہا بلکہ صرف ایك ہی بارکہا تو اس صورت میں ایك ہی طلاق رجعی واقع ہوئی
|
لان اللفظ الاوّل یحتمل الرد فینوی علی کل حال والثانی یحتمل السب فینوی فی الغضب وقد حلف ویکفی حلفہ فی منزلہ[1]کما فی الدرالمختار واللفظ الثالث وان کان صریحا لایکون قرینۃ فی الاولین لان شرط النیۃ ان تتقدم کما فی ردالمحتار۔ |
کیونکہ پہلا لفظ جواب کا بھی احتمال رکھتالہذا بہر صورت نیتِ طلاق ضروری ہے،اور دوسرا لفظ ڈانٹ کا بھی احتمال رکھتا ہے اس لئے صرف غصہ کی حالت میں طلاق کی نیّت کرنی ہوگی جبکہ وُہ قسم دے چکا ہے اور گھرمیں قسم دے دینا کافی ہے جیس کہ درمختار میں ہے۔اور تیسرا لفظ اگرچہ طلاق میں صریح ہے لیکن یہ پہلے دونوں لفظوں کےلئے قرینہ کافی نہیں ہوسکتا کیونکہ قرینہ کے لئے پہلے ہونا شرط ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے۔(ت) |
پس اگر اس سے پہلے کبھی دو٢ طلاقیں نہ دی تھیں نہ ایك طلاق بائن دی تھی جس کی عدّت باقی ہوتو جب تك وضعِ حمل نہ ہورجعت کرسکتا ہے،مثلًازبان سے اتنا کہہ دے کہ"میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا"تو وہ بدستور اس کے نکاح میں رہے گی،اور اگر وضعِ حمل تك رجعت نہ کرے گا تو اس کے بعد برضائے زن اس سے دوبارہ نکاح کرنے کی حاجت ہوگی،حلالہ کی حاجت دونوں صورتو ں میں نہیں،حلالہ تین طلاقوں پر لازم ہوتاہے،اور جب لازم ہوتاہے اس کے ساقط کرنے کی کوئی صورت نہیں وکل ماذکر فی القنیۃ من الحیل وغیرہا باطل لااصل لہ(قنیہ میں جو حیلے ذکر کئے گئے وُہ باطل ہیں ان کی کوئی اصل نہیں۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٣١٦: مرسلہ مستقیم خاں زمیندار ١٤صفر ١٣١٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ علی محمد خاں کی بیٹی کا نکاح بھوراخاں کے ساتھ ہُوا ابھی رخصت نہ ہوئی تھی کہ باہم نزاع ہوگیا۔برکت اﷲخاں،مستقیم خاں،نظیرالدین خاں صلح کےلئے گئے۔سب کے سامنے بھورا خاں نے کہا"یہ میری زوجہ نہیں ہے میں نے اس کو پہلے چھوڑدیا ہے"اور چند مرتبہ کہا"میں نے چھوڑدی چھوڑدی مجھ کو کچھ سروکار نہیں،میری بی بی نہیں ہے"اس صورت میں طلاق ہوئی یا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع