30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دینے کا اقرار کیا اس پر بھی وُہ مقدمہ خارج کیا گیا،پھر اس کے بعد مسمّاۃ نے کچھ عرصہ تك انتظار کیا،پھر مسمّاۃ نے وہاں خبر بھیجی اس پر اس نے ایك ایسا کارڈ روانہ کیا کہ جس کو دیکھ کر عقل گم ہوگئی،چونکہ ظاہرمیں وہ شخص اقرار کرتا ہے اور باطن میں وُہ ایسا ہے،پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وُہ مسماۃ کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اور وہ شخص ضلع شاہجہان پور مقام موضع سندھول کا رہنے والا ہے اور مسمّاۃ باشندہ شاہجہان پور ہے محلہ مہمند گھڑی،اور جوکارڈ اس نے روانہ کیا وُہ کارڈ بھی اس میں رکھا ہے،آپ ا پنے دستخط اور جو علمائے سنت ہوں ان کے دستخط کرواکے روانہ کیجئے،نہایت عاجز اور مسکین ہُوں فقر فاقہ کرتی ہُوں،آپ صاحبان علمائے دین کے دستخط ہوکر فتوٰی آجائے گا تو اور جگہ نکاح کرلوں گی اور آپ کو دُعا دُوں گی اور آپ کو اﷲتعالٰی اس کا اجرِ عظیم دے گا،واسطے اﷲکے میرے اوپر رحم کیجئے۔
الجواب:
کارڈ دیکھا گیا اس میں صرف یہ لفظ ہے آپ کہتے ہیں اپنی عورت کو لے جاؤ اور اس نے مجھ پر مقدمہ چلایا اور وکیلوں کے پاس گئی اور پھری گئی اور ہرکس وناکس سے ملی اس لئے وُہ بالکل میرے کام کی نہ رہی،اتنے لفظ پر جب تك طلاق کی نیت سے کہنا ثابت نہ ہو طلاق کا حکم نہیں ہوسکتا،نہ ہرگز عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اگر کرے گی محض حرام ہوگا،اس سے پوچھا جائے اگر وُہ اقرار کرے کہ ہاں میں نے یہ لفظ بہ نیت طلاق کہا تھا تو جبھی سے طلاق ہوگئی جب سے اب تك اگر عورت کو تین حیض آکر ختم ہوگئے یا جب ختم ہوجائیں دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور اگر وُہ نیتِ طلاق کا اقرار نہ کرے اس پر حلف رکھا جائے اگر حلف سے کہہ دے کہ میں نے ان لفظوں سے نیتِ طلاق نہ کی تھی تو ہرگز حکم طلاق نہ ہوگا۔درمختار میں ہے یکفی تحلیفھالہ فی منزلہ[1] (خاوند سے گھرمیں ہی قسم لے لینا کافی ہے۔ت)اور اگر حلف سے انکار کرے تو شرعی نالش کی جائے کہ اس نے یہ الفاظ کہے ہیں اور ان سے طلاق کا احتمال ہے اگر وُہ حاکم کے سامنے بھی اس حلف سے انکار کرے تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور عورت بعد عدت دوسری جگہ نکاح کرسکے گی اور اگر وہاں حلف کرلیا تو طلاق ثانب نہ ہوگی،اگر جُھوٹی حلف یہاں یا وہاں کیا تو وبال اس پر ہے۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ٣١٠: ازبریلی شہرکہنہ محلہ قرولی مرسلہ عظیم اﷲخاں صاحب ٩شوال ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مَے نوشی وقمار بازی کرتا ہے،اس نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع