30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ٣٠٨: از ریاست رامپور محلہ شاہ آباد دروازہ مسئولہ سید نادر علی صاحب ٢٨ذیقعدہ ١٣٣٦ھ
زید نے اپنی منکوحہ کو بوجہ زبان درازی مارا،اس پراور زیادہ بدکلامی اور گفتگو ناشائستہ کرنی چاہی،زید نے اور سختی کی،اور یہ لفظ مجبور ہوکر منکوحہ سے کہا کہ چلی جا۔اس واقعہ کے وقت زید کے رشتہ کے بہنوئی موجود تھے،لفظ"چلی جا"سُن کر زید سے کہا کہ اب تمہارا نکاح کب رہا،اس پر زید کو اور زیادغیظ بڑھا جو انتہا درجہ پر شمار کیاجائے اور کوئی نشیب وفراز کا خیال نہ کیا اسی حالتِ غیظ،میں اپنے بہنوئی کی طرف مخاطب ہوکر چونکہ وہ اس کے پاس کھڑا تھا لفظ طلاق چند بار جس کی تعداد پورے طور یا د نہیں کہا اور یہ بھی کہا کہ"آزاد کیا"،ان لفظوں کی ادائیگی زید نے متوجہ کرکے یا مخاطب ہوکر اپنی منکوحہ سے نہ کہے بلکہ اس وقت زید کا فاصلہ اپنی منکوحہ سے آٹھ سات قدم کا تھا اور منکوحہ زید کے روبرو نہ تھی اور اس کا ایجاب وقبول نہ ہوا۔ایسی صور ت میں نکاح جائز رہا یاباطل ہوا؟اور زید کی منکوحہ ٥ماہ کی حاملہ بھی ہے،لہذا یہ مسئلہ علمائے دین کی خدمت میں پیش کیاجاتا ہے کہ آپ صاحبان اپنی مُہر ودستخط سے مزیّن فرمائیں۔
الجواب:
زید نے لفظ"طلاق طلاق"چند بار کہا اگر اس سے اپنی زوجہ کو طلاق دینی مقصود تھی تو تین طلاقیں ہوگئیں،بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی،
|
لانہ ان ثلث فذاك وان ثنی فثالثھما قولہ قولہ"آزاد کیا"لانہ لایحتمل رداولاسباوقدصارت الحال حال المذاکرۃ لانہ قالہ لمدخولہ"طلاق طلاق"کما ذکرہ السائل والاضافۃ فی السابق اضافۃ فی اللاحق کقولہ طلقتك طلقتک۔ |
کیونکہ اگر تین مرتبہ کہا تو تین،ورنہ اگر دو مرتبہ طلاق کہا تو پھر تیسری طلاق اس کے"آزاد کیا"کہنے پر ہوگئی،کیونکہ یہ لفظ ڈانٹ اور جواب بننے کا احتمال نہیں رکھتا،جبکہ پہلے"طلاق"کہنے پر مذاکرہ طلاق بھی بن چکا ہے کیونکہ مدخولہ عورت(وطی شدہ)کو طلاق طلاق کہا ہے جیسا کہ سائل نے ذکر کیا ہے،اور پہلے طلاق میں بیوی کی نسبت آخری لفظ میں بھی معتبر ہوگی'جیسا کہ"میں نے تجھے طلاق دی"میں ہوتا ہے۔(ت) |
مگر یہ اس کے اقرار پر موقوف ہے کہ اس لفظ"طلاق طلاق"سے زوجہ کو طلاق دینی مرادتھی اگر اقرار نہ کرے گا اُن الفاظ سے حکمِ طلاق نہ ہوگا اگر واقع میں اس نے نیتِ طلاق کی تھی اور مُکر جائے گا تو وبال اس پر رہے گا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع