30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ الفاظ اس نے اپنی ساس سے کہے تھے نکاح سے باہر سمجھی جائے گی پھر اگر خلوت اصلًا نہ ہوئی جب تو عورت وقتِ طلاق ہی سے نکاح ثانی کی محل ہوگئی اور اگر خلوت ہوئی اگرچہ جماع نہ کرسکا تو اگر جب سے اب تك عدت یعنی بعد طلاق تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے تو اب ورنہ جب ختم ہوں دوسرے سے نکاح ہوسکتا ہے اور اگر رحیم خاں نہ ملے کہ اس پر قسم رکھی جاتی تو طلاق ثابت نہیں نکاح حرام ہوگا قال اﷲتعالٰی وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ [1] (اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور شادی شدہ عورتیں حرام ہیں۔ت)واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٣٠٦: ازچھپر امحلہ نئی بازار تربنہ مرسلہ حاجی عبدالرزاق صاحب یکم شعبان ١٣٣٦ھ
زید نے بارہا اپنی بی بی کو غصہ کی حالت میں کہاتم ہمارے سامنے ونظر سے دور ہوجاؤ جب وُہ سامنے سے دُور نہیں ہوتی اس وقت وُہ جوتا لے کر دوڑتا ہے تب وُہ سامنے سے علیحدہ ہوجاتی ہے آیا طلاق عائد ہوتا ہے یا نہیں؟
الجواب:
اگر اس نے بہ نیتِ طلاق یہ الفاظ نہ کہے تو طلاق نہ ہوئی،اور اگر ایك بار بھی بہ نیت طلاق کہے تو طلاق ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی مرد سے قسم لی جائے اگر حلف سے کہہ دے کہ میں نے یہ لفظ کبھی بہ نیت طلاق نہ کہے تو حکم طلاق نہ دیں گے،اگر جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر ہے،یہ قسم حاکم کے سامنے ہونا ضروری نہیں عورت گھر میں قسم لے سکتی ہے۔درمختار میں ہے:
|
یکفی تحلیفھالہ فی منزلہ[2]۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
عورت کا خاوند سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٣٠٧:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرصہ تقریبًا ١١سال کاہوا میری شادی کو ہوئے، میرے شوہرنے مجھ کو تین چار بار اپنے مکان سے نکال دیا،برادر جمع ہوئے اور مجھ کو میرے شوہر کے یہاں پہنچادیا،اور پھر چند عرصہ کے بعد میرے شوہر نے مجھ کو اپنے مکان سے باہر نکال دیا اور کہہ دیا کہ"تُونکل جا،آج سے مجھ سے اور تجھ سے کسی قسم کا کچھ تعلق نہیں"۔اب عرصہ چھ ٦سال سے اپنے والدین کے مکان پرہوں،بردران نے دو٢ شخص مقررکئے وُہ بتاریخ ٢شوال ١٣٣٦ھ یومِ جمعہ کو میرے شوہر کے مکان پر گئے اور انہوں نے یہ لفظ میرے شوہر سے کہے کہ تمہاری بی بی بہت تکلیف میں ہے اور وہ تمہارے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع