30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اپنی ساس سے یہ کہا کہ میں کسی قابل نہیں ہوں میں جواب دے دُوں گا میرے چھوٹے بھائی سے اس کا عقد کردو یہ بیوی نہیں ہے بلکہ ماموں زاد بہن ہے۔اس پر اس کی ساس بہت ناخوش ہوئی،اب اس سے جواب کے لئے کہا جاتا ہے وُہ انکار کرتا ہے،کبھی کہتا ہے میں اب مردہوگیا،کبھی لوگوں سے کہا میں اس عورت کی ناك کاٹ لوں گا۔یہ عورت اس کے گھر جانا نہیں چاہتی نہ اس کی ماں اس کو بھیجنا چاہتی ہے بلکہ دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے۔آیا وہ عورت اب بلاطلاق لئے دوسری جگہ اس کا نکاح کرسکتی ہے؟
الجواب:
اس کا کہنا کہ میں کسی قابل نہیں اور یہ کہ میں جواب دے دوں گا،اور یہ کہ میری بی بی نہیں،اور یہ کہ ماموں زاد بہن ہے،ان میں سے کوئی لفظ کلمہ طلاق نہیں البتہ اس کا یہ لفظ کہ"فلاں سے اس کاعقد کردو"کنایہ طلاق ہوسکتا ہے،
|
علی معنی زوجو ھا فلانا لانی طلقتھا کما قال ش فیمن زوج امرأتہ من غیرہ موجھا لمن قال ان نوی طلقت لعل وجہہ ان قولہ زوجتك امرأتی فلانۃ یحتمل ان یکون علی تقدیر ان صح تزویجھا منك اوتقدیر لانھا طالق منی فاذا نوی الطلاق تعین الثانی فتطلق اھ[1]۔ |
"اس کا نکاح فلاں سے کردو کیونکہ میں نے اس کو طلاق دے دی ہے"کے مطابق ہے،جیسا کہ علامہ شامی نے ماتن کے قول"جس نے اپنی بیوی کا نکاح دوسرے سے کردیا"کے متعلق جس نے کہا اگر طلاق نیت کی ہوطلاق ہوجائیگی اس قول کی توجیہ بیان کرتے ہوئے کہا خاوند کا کہنا کہ"میں نے اپنی فلاں بیوی کا تجھ سے نکاح کیا"اس میں ایك احتمال یہ ہے کہ تجھ سے نکاح کیا اگرتجھ سے نکاح کرنا جائز ہو۔اور دوسرا احتمال یہ ہے تجھ سے نکاح کیونکہ میں نے اس کو طلاق دے رکھی ہے،تو جب طلاق کی نیت سے کہے تو صرف دوسرا احتمال مراد ہوگا،اس لئے طلاق ہوجائے گی اھ(ت) |
رحیم خاں سے قسم لی جائے کہ تُونے اس لفظ سے طلاق کی نیت کی تھی یانہیں،اگر قسم کھالے گا کہ میں نے اس لفظ سے طلاقِ مجیدن کی نیت نہ کی تھی طلاق ثابت نہ ہوگی دوسری جگہ نکاح حرام محض ہوگا،اور اگر قسم کھانے سے انکار کردے گا تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور عورت اسی وقت سے جب سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع