30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
بکر نے جو حکم لگایا تھا کہ یہ نکاح نہ ہوا اور تمتع زنا ہوگا یہ شریعت مطہرہ پر اس کا افتراء تھا،اسی پر اپنی خطا کا اقرار لازم ہے،اگر اصرار کرے تو وہی بدعتی ہے کہ احکامِ شریعت کو نہیں مانتا اور اپنے گھڑے حکم پر جما ہے اس وقت تك اگر اس کا افتراء نادانستہ تھا اور اب جان کر مُصر ہوگا تو قصدًا مفتری علی اﷲ ہوگا۔اوراﷲعزوجل فرماتا ہے:
|
اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ [1]۔ |
جھوٹا افتراء وہ لوگ بناتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔(ت) |
اوراﷲ عزوجل فرماتا ہے:
|
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾ؕ [2]۔ |
بیشك جو لوگ اﷲتعالٰی پر جھوٹ افتراء بازی کرتے ہیں وُہ فلاح نہیں پائیں گے۔(ت) |
اس کا یہ طمع کی رشوت دیناکہ ہم تمہاری عزت بڑھادیں گے ناپاك ومردود ہے،عزت سب اﷲکے ہاتھ ہے،
|
اَیَبْتَغُوۡنَ عِنۡدَہُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلہِ جَمِیۡعًا ﴿۱۳۹﴾ؕ[3]۔ |
کیا وُہ ان کے ہاں عزت چاہتے ہیں تو عزت ساری کی ساری بیشك اﷲتعالٰی کے لئے ہے(ت) |
دانستہ حق کو باطل کہنا اور حق سے رجوع کرکے اس میں اپنا شبہہ بتانا موجب عزت نہیں دارین میں سخت ذلت کا باعث ہے، خلفائے راشدین وائمہ مجتہدین رضی اﷲتعالٰی عنہم نے کبھی رجوع عن الحق نہ فرمائی ان کا اس طرح ذکر بلاشبہہ توہین ہے بکر بے ادب مختل الدین ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٣٠٥: ازمارہرہ ضلع ایٹہ عقب تھانہ مرسلہ عصمت اﷲخاں قادری ٩ جمادی الاولٰی ١٣٣٦ھ
مسمّاۃ مجیدن جس کی عمر قریب ٩سال کے تھی اس کا نکاح اس کی پھپی کے لڑکے رحیم خاں سے ہوا،کبھی میل جول عورت مرد کا جیسا ہونا چاہئے نہ ہوا،اس وقت مجیدن کی عمرقریب ١٣سال کے ہے اس کے شوہر نے گاؤں میں مشہور کیا کہ وُہ مرد نہیں ہے نہ عورت کے قابل،چند آدمی اپنے رشتہ داراور غیرلوگوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع