30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقرہ فی البحروالنھر۔[1] |
عدت شمار ہوگی)اور بحرمیں فرمایا یہ موافقت درست ہے ان شاء اﷲ تعالٰی۔اور فتح میں ہے کہ متاخرین کا فتوٰی ائمہ اربعہ،جمہور صحابہ کرام اور تابعین کے قول کے مخالف ہے،تو یہ مخالفت تہمت کے مقام میں ہے،تو بہتر ہے کہ اس کی وجہ معلوم کرنے کے لئے سوچ بچار سے کام لیاجائے،اور لوگوں میں ایسے واقعات موجود ہیں اسی لئے سغدی نے اس کی تفصیل بیان کی ہے جو گزرچکی اھ ملخصًا،اور اس کو بحر اور نھر میں ثابت رکھا ہے۔(ت) |
ڈیڑھ دوسال میں اگرچہ ذوات الحیض کی مدت کا انقضاء لازم نہیں فقد تکون ممتدۃ الطہر(کیونکہ کبھی لمبے طہر والی ہوتی ہے۔ت)مگر شك نہیں کہ اتنی مدت انقضائے عدت کے لئے کافی ضرورہے کہ امام کے نزدیك کم ازکم دو٢ مہینے اور صاحبین کے ہاں انتالیس٣٩دن میں تین حیض گزرسکتے ہیں اور عورت کانکاح پر اقدام انقضائے عدت کا اقرار تو صحت نکاح میں کوئی شبہہ نہیں جب تك کہ عورت کا اس اقرار میں کذب شرعًا نہ ثابت ہویُوں کہ طلاق سے مثلًا ڈیڑھ برس بعد نکاح کیا اور اس نکاح کو چھ٦ مہینے اور طلاق کو دوبرس گزرنے سے پہلے بچّہ پیدا ہوا کہ اس صورت میں صاف ظاہر ہوا کہ عدت نہ گزری تھی، بدائع، و بحر و درمختار وغیرہا میں ہے:
|
اقدامھاعلی التزوج دلیل انقضاء عدتھا٢[2]۔ |
بیوی کانکاح کے لئے اقدام اس کی عدت ختم ہونے کی دلیل ہوسکتی ہے(ت) |
بالجملہ قول بکر غلط محض ہے اور حاصل قول زید کا اس وجہ پر کہ ہم نے تقریر کی ہے واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٣٠٤: سائل مذکورالصدر بتاریخ مذکور
اسی مسئلہ کے متعلق بکر بزورِ طبع زید کو ترغیبِ عزت واحترام دنیاوی دلاکرکہتا ہے کہ تم اس مسئلہ میں اقرار شبہہ کا اقرار کرو تو ہم بمقابلہ عوام تمہاری عزّت دونی کرادیویں گے اگر کوئی اعتراض کرے گا تو صدہا غلطیاں وشبہات خلفائے راشدین وائمہ مجتہدین پیش کرکے لوگوں کو سرنگوں کر دیویں گے وبصورتِ عدم اقرارشبہہ بدعتی کا حکم لگادیں گے،غور فرمایا جائے کہ بمقابلہ عوام کے خواص کی غلطیاں دکھلانا ایك جزئی مسئلہ میں توہینِ خواص متصور ہے یانہیں؟اورایك مسلمان کو بدعتی کہنا کیسا ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع