30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شوہر نے کہا"میرے قول مجھے تجھ سے کو سروکار نہیں'کو طلاق سمجھو"اس سے بھی طلاق نہ ہوگی۔ |
٦٠١ |
خط سے اس وقت تك طلاق نہیں ہوتی جب تك شوہرخط لکھنے کا اقرار نہ کرے۔ |
٦٠٨ |
|
جو شرعًا معتبر نہ ہو اس کو معتبر بنانا کسی کے بس میں نہیں۔ |
٦٠٢ |
میرا اس کا کوئی تعلق نہیں بنیتِ طلاق طلاق ہے۔ |
٦٠٨ |
|
سوئے ہوئے شخص کی طلاق واقع نہیں ہوتی اگرچہ کہے کہ"میں نے اس کو واقع کیا۔ |
٦٠٢ |
گول مول سوال پر فہمائش۔ |
٦٠٩ |
|
مرد نے بیوی سے کہا"تویہ گمان کرلے کہ تو طلاق والی ہے"تو طلاق نہ ہوگی۔ |
٦٠٢ |
چودہ برس کی لڑکی میں بلوغ وعدمِ بلوغ دونوں محتمل ہیں۔ |
٦٠٩ |
|
"کسی مصلحت سے اپنی عورت کی زوجیت سے انکار کیا تو جُھوٹے حلف پر گنہگار ہوا۔ عورت کا نکاح باقی ہے اور ترکہ سے محروم نہ ہوگی۔ |
٦٠٣ |
مفتی کا خودشقوق قائم کرکے ہر شق کا جواب دینا خلافِ مصلحتِ شرعیہ ہے۔ |
٦٠٩ |
|
یمین غموس پر کفارہ لازم نہیں ہوتا۔ |
٦٠٤ |
لامذہب یعنی زندیق دہریہ کا نکاح ہی نہیں ہوتا۔ |
٦٠٩ |
|
"تو میرے نکاح سے باہر ہے"حالتِ غضب میں طلاق بائن واقع ہوگی۔ |
٦٠٤ |
اگر نکاح ہی نہ ہو تو طلاق کیسی۔ |
٦٠٩ |
|
طلا ق کے بعد"بجائے میری ماں بہن کے"کہاتو ظہار کا محل نہیں۔ |
٦٠٥ |
"مجھ سے محمودہ سے کوئی تعلق نہ رہا"کنایہ ہے وقوعِ طلاق کے لئے نیت شرط ہے۔ |
٦٠٩ |
|
"مجھ کوکوئی دعوٰی نہیں، جہاں چاہے چلی جا"الفاظ کنایہ سے ہیں نیت ہوتو ایك طلاق، نیت نہ ہوتو کچھ نہیں۔ |
٦٠٦ |
کنایہ میں نیت طلاق ہونے یا نہ ہونے میں مرد کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ |
٦٠٩ |
|
عدم نیت کے بارے میں شوہر بیوی کے سامنے قسم کھالے مان لے گی۔ |
٦٠٦ |
مجھ سے تجھ سے سروکار نہیں، الفاظِ طلاق میں سے نہیں۔ |
٦٠٩ |
|
قسم کھانے سے انکار کرے تو نکاح جدید کی ضرورت ہے۔ |
٦٠٦ |
مجھ سے تجھ سے کوئی واسطہ نہیں، الفاظ طلاق کنائی سے ہے۔ |
٦١٠ |
|
"دست برداری، میرا بالکل تم سے کچھ تعلق نہ رہا"کنایہ ہے حالتِ غضب میں طلاق واقع ہوجائےگی۔ |
٦٠٧ |
"چھوڑدیا"صریح ہے۔ |
٦١٠ |
|
عورت نے طلاق مانگی، شوہر نے کہا"تو ہماری بہن ہوچکی"طلاق بائن واقع ہو گئی۔ |
۶۰۷ |
صریح بائن کو لاحق ہوجاتی ہے۔ |
٦١١ |
|
تو ہماری بہن ہوچکی"یہ ظہار نہیں کیونکہ اس میں تشبیہ نہیں۔ |
٦٠٨ |
|
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع