30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعد کہنے ان الفاظ کے تفرقہ وقطع تعلق بعد زمانہ ڈیڑھ سال کے دوسرے مرد نے اس عورت سے نکاح کرنا چاہا بعض نے کہا کہ اسے شوہر نے طلاق نہیں دیا ہے،شوہر سے پوچھا کہ تم نے طلاق دی ہے یانہیں،اس نے بیان کیا کہ ڈیڑھ دوسال سے میں نے اس کو چھوڑدیاہے اور کوئی واسطہ وسروکار نہیں ہے اور وُہ داخل طلاق ہے اور طلاق ہی جانئے،سوال یہ ہے کہ واسطہ وسروکار نہیں اورمیں نے اسی کو چھوڑدیاہے،طلاق بالکنایہ محتاج نیت ودلالت حا ل کی ہے،عرصہ ڈیڑھ دوبرس سے باہمی تفرقہ وقطع تعلق رکھنا موافق قولِ ثانی امام محمد کے جو مختار سغدی ہے دلیل اوپر نیت طلاق کے ہے تیسرا جملہ داخل طلاق یاطلاق ہی جانیے صریح ہے،پس وقوعِ طلاق مسند زمان ماض اندر مدّت ڈیڑھ دوسال کے ثابت ہے یانہیں اور انقضائے عدت زمانہ وقوع طلاق سے عرصہ ڈیڑھ دوسال کے اندر موافق روایات فقہیہ متعلق ہے یانہیں،اور یہ دوسرا نکاح بعد ڈیڑھ دوسال کے صحیح ہوا یانہیں،زید بسند کتب معتبرہ فقہیہ ہدایہ وبحر وفتح وغیرہ ثابت کرتا ہے کہ جب وقوعِ طلاق باسناد سند زمان ماض متعلق ہے اور طلاق سبب عدت تو عدت اندر ڈیڑھ دوسال کے گزرگئی نکاح دوسرا صحیح ہے بکر کہتا ہے کہ نہیں بلکہ وقتِ اقرار سے عدت محسوب ہوگی یہ دوسرا نکاح باطل ہے بلکہ تمتع فیما بین داخلِ زنا،پس قول بکر کا صحیح ہے یازید کا؟
الجواب
"مجھ کو تجھ سے کوئی سروکار نہیں"یہ تو الفاظ طلاق سے ہی نہیں،
|
کقولہ لاحاجۃ لی فیك لااشتھیک١[1]کمانص علیہ فی العلمگیریۃ وغیرہا۔ |
جیسا کہ خاوند کہے"مجھے تجھ میں حاجت نہیں،تجھ میں میری خواہش نہیں ہے،جیسا کہ عالمگیری وغیرہ میں اس پر نص موجود ہے(ت) |
"مجھ سے تجھ سے کوئی واسطہ نہیں"یہ ضرور کنایاتِ طلاق سے ہے کقولہ لم یبق بینی وبینك شیئ[2] (جیسا کہ یُوں کہے میرے اور تیرے درمیان کچھ نہیں ہے۔ت)اور"میں نے تجھ کو چھوڑدیا"یہ لفظ صریح ہے کما بیناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار(جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں اس کو بیان کردیا ہے۔ت)اب اگر اُس نے ان لفظوں سے کہ"مجھ سے تجھ سے کوئی واسطہ نہیں"طلاق کی نیّت کی تھی تو دوطلاقیں بائن ہوگئیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع