30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لفظ"میکنم"محض حال کے لئے اور لفظ"کنم"محض مستقبل کےلئے ، جبکہ عربی میں لفظ"اطلق"حال واستقبال میں دائر ہے۔ |
٥٨٨ |
"تو میرے مکان سے نکل جا"کنایاتِ طلاق سے ہے بہ نیت طلاق اس سے طلاق ہوجائے گی۔ |
٥٩٤ |
|
"ہمارے قابل نہ رہی"کنایہ کے الفاظ میں سے ہے لیکن حالت، غضب میں سبّ وشتم کےلئے بھی ہوسکتا ہے اس لئے وقوعِ طلاق کےلئے نیت بہر حال ضروری ہے۔ |
٥٨٩ |
شوہر نے بہ نیت طلاق کہا کہ"تواب کوئی شوہر کرلے"تو طلاق بائن واقع ہوگی۔ |
٥٩٤ |
|
عورت کو نکال دینا اور کپڑے وغیرہ چھین لینا دلیلِ غضب ہے نہ کہ دلیلِ طلاق۔ |
۵٨٩ |
"مجھ کو تجھ سے کچھ واسطہ نہیں"یہ لفط کنایاتِ طلاق سے ہے کہ بشرطِ نیت اس سے طلاق بائن ہوتی ہے۔ |
۵۹۴ |
|
شوہر"نہ رکھیں گے ہمارے قابل نہ رہی"کہہ کر چلاگیا، صرف اتنی بات سے عورت کو نکاح ثانی ہرگز جائز نہیں۔ |
٥٨٩ |
طلاق بائن کے بعد بے تجدید نکاح مباشرت عورت سے حرام ہے۔ |
٥٩٥ |
|
مفقود الخبر کی بیوی کو بے ظہور طلاق موت حقیقۃً یا حکمًا ہرگز نکاح ثانی جائز نہیں۔ |
٥٨٩ |
اضافت صریحہ نہ ہوتو مدار شوہر کی نیت پر ہے۔ |
٥٩٦ |
|
"جس سے چاہے مباشرت کر جسے چاہے خاوند بنا، مجھ تجھ سے تعلق نہ رہا"یہ تینوں الفاظ کنائی ہیں۔ تیسرے کے لئے حالتِ غضب میں نیت کی ضرورت نہیں۔ ان تینوں لفظوں کی مختلف صورتوں کا حکم۔ |
٥٩٠ |
لفظ"آزاد کیا"سے طلاق بائن ثابت ہوجاتی ہے۔ |
٥٩٧ |
|
"مجھے اس سے کام نہیں، میں اس کو نہیں رکھوں گا' رکھوں تو اسی کا دُودھ پیوں"یہ الفاظ طلاق کے نہیں ہیں۔ |
٥٩٢ |
عام حالت میں وقت تحریر نوٹس سے طلاق مانی جائے گی۔ |
٥٩٧ |
|
مرد نے کہا کہ"اگر بیوی کو گھر میں رکھوں تو اسی کا دودھ پیوں"یہ نہ تو ایلاء ہے اور نہ ہی قسم، لہذا کفارہ لازم نہیں۔ |
٥٩٢ |
کون سی عدت کا عورت نفقہ پاتی ہے اور کونسی عدت کا نہیں پاتی۔ |
٥٩٨ |
|
بیوی کا دودھ پینا حرام ہے۔ |
٥٩٣ |
تطفل علی الخیریہ۔ |
٥٩٨ |
|
اگر کوئی یُوں کہے کے"اگر میں یہ کام کروں تو میں زانی، چوریاشرابی ہوں"تو حالف نہیں ہوگا۔ |
٥٩٣ |
"مجھے تجھ سے سروکار نہیں"لفظِ طلاق میں سے نہیں۔ |
٦٠٠ |
|
الفاظ کنائی سے متعلق ایك فتوٰی کی تنقید۔ |
٥٩٣ |
|
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع