30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
سائل مظہر کہ شخص مذکور نے انگریزی کچہری میں کسی مصلحت سے ایسا اظہار حلفی دیا پس صورت مستفسرہ میں وُہ شخص جھوٹے حلف کا گنہگار ہوا،توبہ استغفار کرے،باقی نہ نکاح گیانہ کفارہ آیا،نہ اولاد اس کے لئے ترکہ سے محروم ہوئی،
|
امابقاء النکاح فلان جحودہ لایزیلہ والمقام ھٰھنا متعین للاخبار لانہ فی اظہار لاسیمامع الحلف بل اللفظ بنفسہ لایحتمل الانشاء کما لایخفی بخلاف قول القائل لست لی بامرأۃفلم یکن طلاقا اجماعا۔ |
نکاح کا باقی رہنا اس لئے کہ اس کا انکار نکاح کوموثر نہیں کرتا جبکہ یہ مقام بھی خبر دینے کے لئے متعین ہے کیونکہ یہ اظہار ہے اور وُہ بھی حلف کے ساتھ ہے بلکہ خود لفظ بھی انشاء کا احتمال نہیں رکھتا،جیسا کہ مخفی نہیں،اس کے برخلاف اگر کوئی کہے کہ"تُومیری بیوی نہیں ہے تو یہ بالاجماع طلاق نہیں(باوجود یکہ یہ انشاء ہے)۔(ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
ان قال لم اتزوجك ونوی الطلاق لایقع الطلاق بالاجماع کذافی البدائع۔١[1] |
اگرخاوند کہے"میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا"تو بالاجماع طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی،جیسا کہ بدائع میں ہے(ت) |
اُسی میں ہے:
|
اتفقواجمیعا انہ لوقال واﷲ ماانت لی بامرأۃ ولست واﷲ بامرأۃفانہ لایقع شیئ وان نوی کذافی السراج الوھاج[2]،ملخصًا۔ |
اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر خاوند کہے"خدا کی قسم تُومیری بیوی نہیں"یایوں کہے"خُدا کی قسم میری بیوی نہیں"تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی،جیسا کہ سراج الوہاج میں ہے ملخصًا۔(ت) |
اسی طرح اور کتب میں ہے:
|
واما عدم الکفارۃ فلان المعھود فی محاکمھم غیر القسم وان کان فلاکفارۃ |
اور لیکن کفارہ اس لئے نہیں کہ کچہری میں حلف کو قسم نہیں قرار دیاجاتا ہے،اور اگر قسم ہوبھی تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع