30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ارشاد الی غیر معتبرشرعا وما لم یعتبر شرعا فلیس فی وسع احدان یجعلہ معتبرا قال فی الدرالمحتار لا یقع طلاق النائم ولوقال اجزتہ اواوقعتہ لایقع لانہ اعاد الضمیرالٰی غیر معتبرجوہرۃ [1]اھ وقد صرح بالجزئیۃ فی الخانیۃ حیث قال،قال لھا احسبی انك طالق لایقع وان نوی [2]اھ ملخصا پس درصورت مذکورہ زنہار روانیست کہ ہندہ بامردے دگرنکاح کند ھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
برائے مہمل ہے۔قلت(میں کہتا ہوں۔ت)اس گفتگو کو ابتداء طلاق قرار دینا درست نہیں،کیونکہ شرعی طور پر غیر معتبر لفظ سے اشارہ ہے،اور جو شرعًا غیر معتبر ہواس کوکوئی بھی معتبر نہیں بناسکتا،دُرمختار میں فرمایا کہ سوئے ہوئے کی طلاق واقع نہ ہوگی اگرچہ وُہ بیدار ہوکر کہے کہ میں نے اسے جائز قرار دیا ہے یا اس کو واقع کرتا ہُوں،تو پھر بھی نہ ہوگی کیونکہ وُہ جس کلام کو واقع کرنا چاہتا ہے وہ نیند کی کلام ہے جو غیر معتبر ہے،جوہرہ،اھ۔اورخانیہ میں اس خاص جزئیہ کی تصریح کی ہے کہ اگر خاوند بیوی کو کہے،تو یہ خیال کرلے کہ تُوطلاق والی ہے تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت سے بھی کہے اھ ملخصًا،لہذا مسئولہ صورت میں ہندہ کو ہرگز جائز نہیں کہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے۔یہ میری تحقیق ہے حقیقی علم اﷲتعالٰی رب العزت کو ہے۔ واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ٢٩٦: ٥ربیع الاوّل شریف ١٣١٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے کچہری میں اپنی بی بی کی نسبت بیان کیا کہ میرا اس سے نکاح نہیں ہوا اور اس کی اولاد میرے نطفہ سے نہیں ہے اورحاکم نے بموجب بیان کے مقدمہ کو فیصل کرکے اس کی بی بی اور اس کی اولاد قرار نہ دی حالانکہ نکاح اس کا درحقیقت اسی عورت سے ہوچکا تھا اب شرعًا نکاح اس کا جائز رہایانہ رہا اور اولاد اس کی فوت ہونے کے بعد اس کا ترکہ پائے گی یانہ پائے گی اور بعد حنث اس شخص پرکفارہ یمین عائد ہوگا یا نہیں؟بینواتوجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع