30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طلاق دینے کی مقر ہے اور اس وقت سے تحریر نوٹس کے وقت تك اتنازمانہ گزرگیا جس میں عدّت منقضی ہوتو عدّت تو محمودی کو روز تحریرنوٹس ہی سے کرنی پڑے گی مگر اس عدّت کا نفقہ شوہر سے نہ پائے گی
|
مواخذۃ علیھا باقرارھا وان امرہ الشرع بالعدّۃ قطعاللتزویر۔ |
یہ بیوی کے اپنے اقرار پر مواخذہ ہے اگرچہ شرع نے اس کو عدّت کا حکم دیا ہے کیونکہ جُھوٹ ہوسکتا ہے۔(ت) |
اگر محمودی اس وقت طلاق دئے جانے کی مقر نہیں تو اس عدّت کے ایام کا نفقہ بھی شوہر سے پائے گی،
|
لان نفقۃ عدۃ الطلاق علی الزوج بالنص وبہ ظھر ضعف مافی الخیریۃ۔ فی الخیریۃ سئل فی رجل فرض علیہ القاضی نفقۃ وکسوۃ لزوجتہ و مضت مدّۃ فادعی طلاقھا منذ زمان اجاب ان کذبتہ فی الاسناد ولم تقم بینۃ کان علیھا العدّۃ من وقت الدعوی ولھا فیھا النفقۃ والسکنی وان صدقتہ فلانفقۃ لھاو لا سکنی[1] (ملخصا) واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ طلاق کی عدت میں نفقہ خاوند پر نص کی وجہ سے ثابت ہواہے،اس سے خیریہ کے بیان کا ضعف واضح ہوگیا ہے(ت) فتاوٰی خیریہ میں ہے سوال کیا گیا کہ ایك شخص پر اس کی بیوی کا نفقہ اور لباس قاضی نے لازم کیا،اور کُچھ مدت گزرنے پرخاوند نے یہ دعوٰی کیا کہ میں نے بیوی کو مدت سے طلاق دے رکھی ہے،تو اُنہوں نے جواب دیا کہ اگر عورت خاوند کے اس دعوٰی کو دلیل سے جُھوٹ ثابت کردے اور گواہ پیش نہ کرسکے تو بیوی پر دعوٰی کے وقت سے عدّت لازم ہوجائے گی، اور عدّت میں اس کو نفقہ اور رہائش ملے گی،اور اگر بیوی خاوند کے دعوے کو سچ قرار دے تو پھر عدّت میں نفقہ اور رہائش نہ ملے گی۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع