30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرکے معہ جملہ اسباب جہیز وغیرہ اس کے ہمراہ کردیا گیا اور آپ کے گھربھیج دیا گیا مجھ سے اور اس سے کچھ تعلق شرعًا نہیں رہا،نہ اس کا کوئی سامان میرے ذمہ باقی رہا بلکہ اس روز بہت پنچان قصبہ سرولی کے موجود تھے وہ بھی اس امر کے گواہ ہیں،اگر مجھ سے اور مسماۃ مذکور سے کچھ تعلق ہوتا تو میں ضرور اس کے نان ونفقہ کی فکر کرتا،آپ کیوں برابر تحریر کرتے ہیں،اب آپ کے نوٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب آپ پھر پنچان جمع کرکے میرے مکان پر لانے والے ہیں اگر آپ نے ایسا کیاتو مجھ سے اور آپ سے رنج حد کو پہنچے گا،لہذا اب آپ پنچان کے جمع کرنے کا ارادہ نہ کریں،اس واسطے نوٹس دیا گیا مطلع رہو۔ازمقام دھنورہ مرسلہ ولایت خاں٢١/اکتوبر ١٩٢٠ء۔
الجواب:
عبارت نوٹس سے(کہ جب تك میرے گھر رہی آپ میرے خُسر رہے جس روز سے اس کو میں نے آزاد کرکے آپ کے گھر بھیج دیا)صاف اقرار طلاق ظاہر ہے،
|
اعتاق المرأۃ وان کانت من الکنایات فلایتحمل ردّاولاسباکمالایخفی،وفی الدر المختار انت حرۃ لا یحتمل السب والرد[1]،قال الشامی واعتقتك مثل انت حرۃ کما فی الفتح[2] والحالۃ کماتری حالۃ الغضب فلایفھم فی الحکم الاالطلاق والمرأۃ کالقاضی کمافی الفتح وغیرہ۔ |
بیوی کو"آزاد ہے"کہنا،اگرچہ الفاظ کنایہ میں سے ہے تاہم یہ ڈانٹ اور جواب کا احتمال نہیں رکھتا اور صرف طلاق مراد ہوگی جیسا کہ مخفی نہیں ہے،درمختار میں ہے:بیوی کو کہنا"توآزاد ہے"ڈانٹ اور جواب کا احتمال نہیں رکھتا،اور اس پرعلّامہ شامی نے فرمایا"میں نے تجھے آزاد کیا"ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے"تُوآزاد ہے"جیسا کہ فتح میں ہے،اور حالت بھی غصہ کی ہوتو پھر طلاق ہی حکم سمجھاجاسکتا ہے،اس میں عورت قاضی کی مانند ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے۔ (ت) |
پس اگر گواہانِ شرعی سے ثابت ہوکہ یہ نوٹس اسی کا لکھا ہوا ہے یا وُہ مقر ہوتو ایك طلاق بائن واقع ہوگئی اور وقت تحریر نوٹس سے عدّت لی جائے گی اگرچہ ہندہ بھی تسلیم کرتی ہوکہ جس وقت اس نے گھر سے نکالا تھا طلاق دے دی تھی جس کا اقرار اس نوٹس میں ہے،ہا ں اگر ہندہ گھر سے نکالتے وقت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع