30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طلاق بائن ہوتی ہے۔فتاوٰی قاضی خاں میں ہے:
|
ولوقال لم یبق بینی وبینك عمل یقع الطلاق اذانوی[1]۔ |
اگریوں کہا کہ"تیرے اور میرے درمیان کوئی عمل نہ رہا"جب طلاق کی نیت سے ہو طلاق واقع ہوگی۔(ت) |
پس اگرجملہ یا بعض الفاظِ مذکورہ بہ نیت طلاق کے کہے طلاق بائن واقع ہوئی،بے تجدید نکاح کے مباشرت عورت سے حرام ہے۔تنویر الابصار میں ہے:
|
البائن یلحق الصریح لاالبائن الااذا[2]۔ |
بائن طلاق،صریح کو لاحق ہوسکتی ہے بائن کو نہیں مگر جب۔ (ت) |
(جواب ناقص ملا)
مسئلہ٢٩٣: ازشہر کہنہ ١٩محرم الحرام ١٣١٤ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے اپنی زوجہ سے جس کا نام ہندہ اور جو کئی سال سے اس کے نکاح میں تھی بغرض اپنی شادی دوسری جگہ کرنے کے اس کو طرح طرح کی تکلیفیں دینا شروع کیں اوربجبر اس پر تہمت زنا کی لگاکر ایك پرچہ تحریر کیا اور پر چہ اپنے قلمدان میں رکھا اس روز ہندہ کو سختی ایسی دی کہ زید کے وارثان نے ہندہ کے وارثوں کو خبر دی کہ تم اپنی لڑکی کو اپنے گھر لے جاؤ وہ سخت تکلیف میں ہے۔اس پر ہندہ کی ماں ہندہ کو اپنے گھر لے آئی اور پرچہ جس کا ذکر اوپر ہوا ہے وہ بھی ہندہ اپنے ساتھ لائی اس پر ہندہ کے وارثوں نے ایك مجمع عام میں زید کو ایسے کلمات کی تحریر سے نصیحۃً فہمائش کی،بجواب اس کے زید نے کہا کہ میں نے چھوڑا،مجھے کچھ تعلق نہیں،جو اسباب ہندہ کا ہے ابھی مجھ سے لے لو۔ہندہ کے وارثوں نے دوشخصوں کو زید کے پاس ہندہ کا اسباب لینے کو بھیجا،زید نے کُل اسباب دے دیا،اُن لوگوں نے ہندہ کے حوالہ کردیا،ہندہ نے کہا کہ میرا زیور باقی ہے وہ بھی لاؤ،۔وہ ہی شخص زیور لینے زید کے پاس گئے،زید نے زیورکا وعدہ کیا کہ بیس٢٠روزمیں دوں گا۔چنانچہ زید نے بیسویں روز رُوبرو چار آدمیوں کے کل زیور دے دیا اور پھر کہا کہ مجھ سے کچھ تعلق نہیں۔اس صورت میں زیدنے دومرتبہ یہ کلمہ کہا کہ مجھ سے کچھ تعلق نہیں۔منشا زید کا ان کلمات سے ظاہر ہے۔عرصہ چار سال ہوا جب سے اس وقت تك کچھ تعلق نہیں رکھا۔اس صورت میں شرعًا ہندہ پر طلاق واقع ہوئی یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
صورتِ مستفسرہ میں ہندہ پر طلاق پڑجانے اور نکاحِ زید سے باہر ہوجانے کا حکم دیا جائےگا،ہاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع