30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زید مذکور کو اختیار ہے کہ اس سے رجعت کرلے یا بعد انقضائے عدت نکاح کرلے۔درمختار میں خلاصہ سے نقل کیا ہے کہ:
|
اذھبی وتزوّجی یقع واحدۃ بلا نیّۃ[1]۔ |
یعنی اگر شوہر نے زوجہ کوکہا کہ چلی جا اور دوسرا شوہر کرلے تو اس سے ایك طلاق پڑجائے گی خود شوہر کی نیت طلاق کی ہویانہ ہو۔ |
کتبہ محمد احسن الصدیقی الحنفی
|
محمد احسن صدیقی ١٢٧٦ |
الجواب:
اقول: وباﷲ استعین(میں کہتا ہوں اور اﷲ سے مدد مانگتا ہوں۔ت)جواب میں الفاظ مندرجہ سوال سے تعرض نہیں اور جس بات کا حکم درمختار سے نقل کیا یعنی اگر شوہر نے زوجہ کو کہا"چلی جا اور دوسرا شوہر کرلے"سوال میں بہیئت کذائی نہیں،اگر"اخرجی اوراذھبی"میں فرق نہ کیا جائے تاہم بسبب لفظ ثالث یعنی اس کلام کے کہ"میں اب تجھ کو اپنے یہاں نہ رکھوں گا"صورت مسئلہ کی بدل جائے گی،پس دلیل جناب مجیب کی قطع نظر اس سے کہ رجعی ہونا صورت محکوم علیہا کا اس سے ظاہر نہیں سوال سے علاقہ نہیں رکھتی کہ حکم ہیئت اجتماعیہ کا حالت انفراد کے حکم سے مغایر ہوسکتا ہے فلایتم التقریب اصلا (تو دعوٰی اور دلیل مطابق نہ ہوئے۔ت)علاوہ بریں بعد تسلیم اس امر کے کہ یہ کلمات کنایات طلاق سے ہیں طلاق مذکورہ کو رجعی قراردینا بس عجیب ہے اس لئے کہ سواچند الفاظ کے کہ کُتبِ فقہ میں مذکورہ ہیں باقی کنایات سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے اور لفظ ابتغی الازواج(خاوند تلاش کر۔ت)کو وقایۃ الروایۃ میں کنایات میں ذکر کرکے کہا واحدۃ بائنۃ[2] (ایك بائنہ طلاق ہوگی۔ت)
پس جواب صحیح یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں تین لفظِ کنایات طلاق سے مذکور ہیں:
١اول،تو میرے مکان سے نکل جا کہ حاصلِ معنی"اخرجی"کا ہے بشرطِ نیت اس سے طلاق بائن ہوجاتی ہے کما مر(جیسا کہ گزرچکا ہے۔ت)
٢دوم،تو اب کوئی شوہر کرلے یا کسی سے آشنائی کر،اس تردید کے جُزء اوّل کا بھی یہی حکم ہے،وقد مرایضًا(اور یہ بھی گزرچکا۔ت)
٣سوم،مجھ کو تجھ سے کچھ واسطہ نہیں،یہ لفظ بھی کنایاتِ طلاق سے ہےکہ بشرطِ نیت اس سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع