30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عدم نیت کے بارے میں شوہر کا قول بقسم معتبر ہے۔ |
٥٧٨ |
"آزاد کیا"نیتِ طلاق سے کنایہ ہے، یہ لفظ تین دفعہ کہا ایك واقع ہوگی دو٢ لغو ہونگی۔ |
٥٨٥ |
|
جبر واکراہ در بارہ نکاح مخل صحت ونفاذ ولزوم نہیں۔ |
٥٧٩ |
طلاق بائن کے بعد زن ومرد اگر راضی ہوں تو شوہر عدت کے اندر یا بعد عدت نکاحِ جدید کرسکتا ہے۔ |
٥٨٥ |
|
مکرہ کے تمام تصرفات قولیہ منعقد ہوتے ہیں ۔ |
٥٨٠ |
بائن بائن کو لاحق نہیں ہوتی اگر اس کو خبر قرار دینا ممکن ہو۔ |
٥٨٥ |
|
مکرہ کا نکاح، عتاق اور طلاق لازم ہے۔ |
٥٨٠ |
ایك طلاق کے بعد صرف غیر مدخولہ مزید طلاق کی محل نہیں رہتی۔ |
٥٨٥ |
|
"میں بے شادی شدہ ہوں، میرا نکاح کسی سے نہ ہوا، وطن میں میرا کسی سے سروکار نہیں"یہ سب الفاظ طلاق میں سے نہیں۔ |
٥٨٠ |
جب تك عدت نہ گزرے زنِ مدخولہ طلاق مفرق ومجموع سب کی محل ہے۔ |
٥٨٥ |
|
عورت بغداد میں ہے شوہر نے کہا بغداد کی ساری عورتیں مطلقہ ہیں، اگر اپنی عورت کی نیت نہ کی طلاق واقع نہ ہوگی۔ |
٥٨١ |
لفظ"حرام"بوجہ عرف ملحق بالصریح ہے۔ |
٥٨٦ |
|
لفظ وطن بلد وقریہ سے عام ہے۔ |
٥٨١ |
تم نے ایسا کہا"لہذا وہ مجھ پر حرام ہے"اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس فعل کو سببِ حُرمت سمجھتا ہے اگر یہی مراد ہو تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ |
٥٨٦ |
|
"میں نے تجھے آزاد کیا"بشرطِ نیت طلاق بائن واقع ہوگی، اور تین کی نیت سے کہا تو تین ہوں گی ۔ |
٥٨٢ |
یہ جہال کا خیال ہے کہ عورت بے اجازت شوہر گھر سے نکلے تو نکاح سے نکل جاتی ہے۔ |
٥٨٦ |
|
"چھوڑنا"طلاق صریح کا لفظ ہے"جہاں چاہے چلی جا"کنایہ ہے۔دونوں لفظ کہے تو پہلے والا صریح بعد والے کنایہ کے لئے قرینہ بن جائے گا۔ |
٥٨٣ |
مبنائے باطل پر اقرارِ طلاق محض لغو ہے۔ |
٥٨٦ |
|
اپنی بیوی کو بہن کہا، نہ ظہار کہے نہ طلاق۔"چھٹی دی"کا لفظ حالتِ غضب میں طلاق کے لئے ہی ہے۔ |
٥٨۴ |
"ہم تجھ کو نہ رکھیں گے زمانہ مستقبل کے لئے وعدہ ہے۔ اگر صریح لفظ"طلاق دیں گے"ہو تب بھی طلاق واقع نہ ہوگی۔ |
٥٨٨ |
|
"جو شخص شریعتِ مطہرہ کے فتوٰی پر عمل نہ کریگا گنہگار ومستحق سزا وعذاب ہے۔ |
٥٨٥ |
فارسی زبان میں لفظ"طلاق می کنم"کہا تو طلاق ہوجائے گی، اور اگر"طلاق کنم"کہا تو نہیں ہوگی۔ |
٥٨٨ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع