30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تو اسی کا دودھ پیوں)فھذہ لیس من باب الایلاء فی شئی لان گھر میں رکھنا انما ھو الایلاء ای ھوالتمکین من ان تسکن فی بیتہ ولایکنی بہ عن الوطی و لا یکون یمینا ایضاحتی لواٰواھا ومکنہا بعد من التمکن لاتلزمہ کفارۃ یمین لان شرب لبن العرس غایتہ ان یکون حراما وقولہ ان فعلت کذافانا زان او سارق او شارب خمر اواٰکل ربٰو فلیس بحالف [1]ھکذافی الھندیۃ عن الکافی فلایلزمہ بذٰلك شیئ،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
قول"اس کو گھر میں رکھوں تو اسی کا دودھ پیوں"تو یہ ایلاء یعنی قسم کے معنٰی میں نہیں ہے کیونکہ گھر میں رکھنا،گھر میں رہنے کی اجازت دینا ہے،اس سے وطی مراد نہیں ہوسکتی،اور قسم بھی نہیں ہوسکتی حتی کہ اس کو گھر میں رکھا بھی تو قسم کا کفارہ نہ پڑے گا کیونکہ بیوی کا دودھ پینا زیادہ سے زیادہ حرام ہے،اور یُوں ہی اگر کہا اگر میں یہ کام کروں تو میں زانی یا چوریا شرابی یاسُود خور قرار پاؤں،قسم نہ ہوگی۔ہندیہ میں کافی سے یہی منقول ہے،لہذا اس سے کوئی کفارہ لازم نہ ہوگا۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ٢٩٢:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین بیچ اس باب کے کہ زید نے حالت ناراضگی یاراضگی میں ہندہ سے جو اس کی زوجہ ہے یہ کلمے کہے کہ"میرے مکان سے نکل جا اور میں اب تجھ کو اپنے یہاں نہ رکھوں گا،تواب اور کوئی شوہر کرلے،یاکسی سے آشنائی کر،مجھ کو تجھ سے کچھ واسطہ نہیں،اور اگر تُومیرے کہنے سے نہ نکلے گی تو پھر میں تیری ناك کاٹ لُوں گا کہ پھر تو خاوند کرنے سے بھی بیکار ہوجائے گی"وہ ہندہ بخوف ناك اور بسبب یہ کلمے کہنے زید کے،وہاں سے نکل کر ایك مکان میں کہ جو اس کے اقرباؤں کا تھا چلی آئی،چرچا اس کا محلہ میں پھیلا،جب زید سے آکر اہلِ محلہ نے کہا ہندہ کے باپ نے جواب پایا زید سے کہ"میری اب طبیعت اس سے بہت ناراض ہے میں اس کو اب اپنے پاس نہ رکھوں گا"اور جس نے کہا یہی جواب پایا کہ"مجھ کو اُس سے کچھ سروکار نہیں اس کواختیار ہے کہ جہاں چاہے وہاں جائے"اور ایك صاحب نے کہا کہ تمہاری بے حُرمتی ہوگی تو زید نے کہا"کیا بے حُرمتی ہوگی کیا مرد عورت کو چھوڑنہیں دیتے ہیں کچھ بے حُرمتی اور بے عزّتی نہیں ہے"بس یہ کلمے زید کے مثل طلاق ہوئے بیچ حق ہندہ کے یا نہیں؟جو حکم شرعی ہوارقام فرمائیں فقط بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ کلمات جو زید نے کہے کنایاتِ طلاق میں سے ہیں ان الفاظ سے ایك طلاق واقع ہوتی ہے یعنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع