30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عند الاولیین لم تکن حال مذاکرۃ الطلاق (وفیہا) قال نویت بالاولٰی طلاقا وبالثانی حیضادین فی القضاء لانہ نوی حقیقۃ کلامہ[1]ملخصا انتہی،وفی الکافی شرح الوافی فی حالۃ مذاکرۃ الطلاق یقع الطلاق فی سائر الاقسام قضاء لافیما یصلح جوابا وردافانہ لایجعل طلاقا عزاہ لہ فی العٰلمگیریۃ۔[2]
|
وقت مذاکرہ طلاق نہ تھا،اور اسی میں اگرمذکورہ صورت میں یہ کہے کہ میں نے پہلے لفظ سے طلاق اور دوسرے سے حیض مراد لیا ہے تو خاوند کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ اس نے لفظ کے حقیقی معنی کی نیت کی ہے اھ ملخصًا(ت)اور کافی شرح وافی میں ہے کہ مذاکرہ طلاق میں ان تمام الفاظ سے قضاءً طلاق واقع ہوگی جو طلاق کا بھی احتمال رکھتے ہیں اور جو صرف ڈانٹ یا جواب بننے کا احتمال رکھتے ہیں ان میں طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ ان کو طلاق قرارنہ دیاجائے گا،اس عبارت کو عالمگیری میں کافی کی طرف منسوب کیا ہے۔(ت) |
رہا تیسرا لفظ،ہرچند وہ بھی محتاج نیت نہ تھا مگر اس سبب سے کہ دوسری طلاق سابق سے اخبار قرار دینا ممکن،اور ایسی صورت میں بائن سے بائن لاحق نہیں ہوتی اس سے طلاق واقع نہ ہوئی،
|
فی الدرالمختار لایلحق البائن اذاامکن جعلہ اخبارا عن الاول کانت بائن بائن او ابنتك بتطلیقۃ لانہ اخبار فلاضرورۃ فی جعلہ انشاء٣[3]۔ |
درمختار میں ہے:بائن کے بعد دوسری بائن نہ ہوگی جبکہ دوسری بائن پہلی سے حکایت بن سکے،مثلًا"تو بائن بائن ہے"یا"میں نے تجھے طلاق کے ساتھ بائنہ کردیا"یہ اخبار ہے اول سے کو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔(ت) |
(٣)اسی طرح اگرپہلی یا دوسری دونوں(٤)یا تینوں سے نیّتِ طلاق کی تو دوہی بائنہ واقع ہوں گی،
|
لمامرمن ان البائن لایلحق البائن ماامکن حملہ علی الاخبار۔ |
جیسا کہ گزرا کہ بائن بائنہ کو لاحق نہیں ہوتی جب وُہ پہلی سے حکایت بن سکے(ت) |
باقی سب صورت میں خواہ(٥)صرف دوسرا(٦)یا صرف تیسرا(٧)یا پہلا اور تیسرا دونوں(٨)یا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع