30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاحاجۃ لی فیك ونوی الطلاق لایقع وکذا لوقال مرابکارنیستی وکذالوقال مااریدک[1]اھ |
"مجھے تجھ میں کوئی حاجت نہیں"اور طلاق کی نیت کی ہوتب بھی طلاق نہ ہوگی،یُونہی اگر کہا"تو میرے کام کی نہیں"اور یونہی اگر کہا"میں تجھے نہیں چاہتا"تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت طلاق ہواھ(ت) |
باقی الفاظ ثلٰثہ میں چند صورتیں ہیں:
(١)اگر اس نے کسی لفظ سے نیتِ طلاق نہ کی تو ایك طلاق بائن واقع ہونے کا حکم دیاجائےگا کہ لفظ ثالث محتمل رَد وسبّ نہیں،اور ایسے الفاظ حالتِ غضب میں حاجتِ نیّت نہیں رکھتے۔
|
فی الھدایۃ فی حالۃ الغضب یصدق فی جمیع ذٰلك لاحتمال الرد والسب الّا فیما یصلح للطلاق ولایصلح للرد والشتم٢[2]انتہی۔ |
ہدایہ میں ہے کہ غصّہ کی حالت میں ان تمام الفاظ میں خاوند کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ یہ الفاظ ڈانٹ اور جواب کا بھی احتمال رکھتے ہیں،مگر وُہ الفاظ جو صرف طلاق کا احتمال رکھتے ہیں اور ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتے وہاں تصدیق نہ کی جائیگی اھ۔(ت) |
(٢)اور جو صرف پہلے سے نیتِ طلاق کی تو بشرطیکہ لفظ ثانی سے معنی حقیقی یعنی میں توطلاق دے چکا اب تزویج کا تجھے اختیار ہے مراد نہ لئے ہوں تو دو٢ بائنہ واقع ہوں گی،لفظِ اوّل سے بحکمِ نیت اور ثانی سے بدیں سبب کہ بوجہ تقدم ومقارنت نیت حالت حالتِ مذاکرہ ہوگئی اور اس حالت میں الفاظ غیر صالحہ رد پابند نیت نہیں رہتے،
|
فی الھدایۃ لما نوی بالاولٰی الطلاق صار الحال حال مذاکرۃ الطلاق فتعین الباقیان للطلاق بھذہ الدلالۃ، بخلاف ما اذا قال نویت بالثلاثۃ الطلاق دون الاولیین حیث لایقع الا واحدۃ لان الحال |
ہدایہ میں ہے:جب پہلے لفظ سے طلاق کی نیت کی ہوتو مذاکرہ طلاق ہوجانے کی وجہ سے باقی دو٢ الفاظ بھی طلاق کےلئے متعین ہوجائیں گے اس کے برخلاف جب یہ کہے کہ میں نے تیسرے لفظ سے طلاق مرادلی ہے تو پھر پہلے دونوں لفظ طلاق نہ ہونگے صرف آخری ایك طلاق ہوگی کیونکہ پہلے دونوں کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع