30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رحمك انت واحدۃ انت حرۃ اختاری امرك بیدك سرحتك فارقتک،لایحتمل الردوالسب[1]۔ |
رکھتے ہیں،اور مثلًا عدّت پوری کر،رحم کوصاف کر،تُواکیلی ہے،تُوآزاد ہے،تجھے اپنا اختیار ہے،تیرامعاملہ تیرے اختیار میں ہے،میں نے تجھے چھوڑدیا،میں نے تجھ سے فرقت کرلی،یہ صرف طلاق کا احتمال رکھتے ہیں۔(ت) |
شرح وقایہ میں ہے:
|
وفی حالۃ الغضب یتوقف الاولان ای مایصلح رداو مایصلح سبا علی النیۃ ان نوی الطلاق یقع بہ الطلاق وان لم ینو لایقع واما القسم الاخیر وھو ما یصلح ردالاسبایقع بہ الطلاق وان لم ینو٢[2]اھ۔ |
اور غصّہ کی حالت میں پہلے دونوں الفاظ یعنی جوجواب بن سکتے اور وُہ جو ڈانٹ بن سکتے ہیں،نیت پر موقوف ہوں گے،اگر طلاق کی نیت نہ ہوتوطلاق واقع نہ ہوگی،لیکن تیسری قسم جو ڈانٹ اور جواب نہیں بن سکتے وہ غصہ کی حالت میں بغیر نیّت بھی طلاق قرار پائیں گے،اھ(ت) |
اور ظاہر ہے کہ ہم نے تجھ کو چھوڑ دیا ہم تجھے نہ رکھیں گے متحد المفاد وداخل قسم اخیر ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
ہم تجھ کو نہ رکھیں گے متمحض للاستقبال والابعاد ہے اور ایسا لفظ اگر صریح بھی ہو ا اصلًا موثر نہیں مثلًا اگر ہزار بار کہے میں تجھے طلاق دے دُوں گا طلاق نہ ہوگی۔
|
وھذا ظاھر جدا،وفی جواھرالاخلاطی فقال الزوج طلاق میکنم انھا ثلاث لان می کنم یتمحض للحل وھو تحقیق بخلاف قولہ کنم لانہ یتمحض للاستقبال، وبالعربیۃ قولہ اطلق لایکون طلاقا لانہ دائر بین الحال والاستقبال |
یہ بالکل ظاہر ہے:اور جواہراخلاطی میں ہے خاوند نے کہا"میں طلاق کرتا ہوں،طلاق کرتا ہوں تو تین طلاقیں ہوں گی کیونکہ اس کا قول"کرتا ہوں"صرف حال کیلئے مختص ہے اور یہ طلاق کو واقع کرتا ہے اس کے برخلاف اس کا یہ کہنا"طلاق کروں گا"یہ خالص استقبال کے لئے ہے اور عربی میں اطلق(طلاق دوں گا)سے طلاق نہ ہوگی،کیونکہ یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع