30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے خود اس کو دوسرے سوال میں واضح کیا ہے۔ت)بلکہ ایك پڑنے کی صحیح وجہ یہ ہے جو فقیر نے بیان کی وباﷲ التوفیق، واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٨٨:ماقولکم رحمکم اﷲ(اﷲآپ پر رحم کرے آپ کا کیا فرمان ہے۔ت)اس صورت میں کہ زید کی زوجہ کو کسی نے دوسرے ایك شخص کے ساتھ ایك مکان میں بند کیا جب زید کوخبر ہوئی تو اس نے چار پانچ آدمیوں کے رُوبرو اپنے خسر سے مخاطب ہوکر کہا کہ چونکہ تم لوگوں نے میری زوجہ کو غیر شخص کے ساتھ ایك مکان میں بند کیا لہذا اب وُہ مجھ پر حرام،پس کیا حکم ہے،آیا وہ زوجہ طلاق ہوگئی یا ہنوز حسبِ سابق اس کی زوجہ ہے،برتقدیر تعلق زوجیت کے قائل کے ذمّہ کچھ کفارہ ہے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب:
ہر چند یہ لفظ بوجہ عرف ملحق بالصریح ہے کہ بے حاجت نیت طلاق بائن واقع ہو،
|
فی ردالمحتار قولہ حرام سیأتی وقوع البائن بہ بلانیۃ فی زماننا للتعارف لافرق فی ذٰلك بین محرمۃ وحرمتك سواء قال علیّ اولا[1]اھ ملخصا وتمامہ فیہ۔ |
ردالمحتار میں ہے کہ خاوندکا کہنا"تُوحرام ہے"عنقریب بیان ہوگا کہ اس لفظ سے ہمارے زمانے میں بغیر نیت بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ اس کے طلاق ہونے پر عرف بن چکا ہے۔تو مجھ پر حرام ہے،اور میں نے تجھے حرام کیا،دونوں برابر ہیں،یہاں"مجھ پر"کا لفظ کہے نہ کہے کوئی فرق نہیں ہے اھ ملخصًا،مکمل عبارت کتاب میں ہے۔(ت) |
مگر کلامِ زید"چونکہ تم نے ایسا کیا لہذا حرام ہے"اس کے یہ معنی بھی محتمل کہ صرف اس بند کرنے کو موجب حرمت بتاتا ہے جیسے بہت جہّال کے خیال میں ہوتا ہے کہ عورت بے اجازتِ شوہر باہر جائے تو نکاح سے نکل جاتی ہے اس تقدیر پر یہ کلام انشائے طلاق نہ ہوگا بلکہ ایك مبنائے باطل پر اقرارِ اطلاق،اور وُہ محض لغو ہے،
|
فی الخانیۃ رجل طلق امرأتہ وھو صاحب برسام فلماصح قال قد طلقت امرأتی ثم قال انی کنت اظن ان الطلاق فی تلك الحالۃ کان واقعا قال مشائخنا رحمہم اﷲتعالٰي |
خانیہ میں ہے کہ ایك شخص نے خیال کیا کہ مرض برسام میں خود بخود طلاق ہوجاتی ہے،اس بناء پر اس نے کہا"میری بیوی مطلقہ ہوگئی"پھر تندرست ہونے کے بعد طلاق کا اقرار کرتے ہوئے کہتا ہے میں نے گمان کیا کہ برسام میں خود بخود طلاق ہوجاتی ہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع